64

ابو ظہبی سے ڈالر اور برٹش پروازیں بحال

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ عمران نے حکومت سنبھالی تو ملک چلانا مشکل نظر آ رہا تھا، جانیو الوں نے اس امر کا مکمل اہتمام کیا تھا کہ ان کے جانشین ابتر صورت حال نہ سنبھال سکیں۔ ایک بھوکے ننگے ملک میں عیاشی کے مہنگے ترین منصوبے لگائے گئے۔ پنجاب کو پاکستان سمجھ لیا گیااور اسکے تین شہروںمیں میٹرو بسیں چلا دی گئیں۔ لاہور تو پھر بھی ایک پھیلا ہوا شہر ہے مگر پنڈی ا ور ملتان کا چکر تو ایک سائیکل پر بھی لگایا جاسکتا ہے، مگرایک طرف مہنگے منصوبے۔ دوسری طرف ان پہ سب سڈی ۔یعنی گھاٹے کو یقینی بنا دیا گیا، یہ بیرونی قرضے تھے، پھر کئی کمپنیاں کھڑی کی گئیں کوئی کوڑا اٹھانے والی اورو ہ بھی ترکی سے۔ صدیوں سے ہم اپنا کوڑا خود صاف کر رہے ہیں بلکہ ہمارے محنت کش بیرونی ملکوں میں جا کر کوڑا صاف کرتے ہیں ۔ یہ کام ایک غیر ملکی کمپنی کو۔ صاف پانی کا منصوبہ جسے ہوا تک نہیں لگنے دی گئی مگر ا سکاپیسہ ہوا میں اڑا دیا گیا۔دس سال سے پنجاب میں ن لیگ ،وفاق میں پانچ سال سے ن لیگ اور وقت نامعلوم سے سندھ میں پیپلز پارٹی ۔ یہی دو پارٹیاں تھیں جو باری لے رہی تھیں ۔ یہ مک مکا تھا، کوئی کسی کوپوچھنے والا نہ تھا اور ملک کا خزانہ خالی کر دیا گیا۔ لوگ افلاس کا شکار ہو گئے۔ کسان بدحال ہو گئے۔ ایکسپورٹر ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے۔ بجلی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی تھی ۔ پیداواری لاگت عالمی مسابقت سے لگا نہیںکھاتی تھی۔ ایسے ملک کو چلانا واقعی کار دارد والا معاملہ تھا مگر عمران خان نے یہ چیلنج قبول کیا ۔ وہ اپنے آپ کو مرد چیلنج کہتا ہے ، خواہ یہ چیلنج ورلڈ کپ کا ہو، خواہ شوکت خانم کا۔ انہوںنے حکومتی ذمے داری قبول کی ۔ مگر کرسی سنبھالنے کے بعدپتہ چلا کہ خزانہ تو خالی ہے۔ عمران نے بے شک کہا تھا کہ وہ کشکول نہیں پھیلائیں گے مگر ملکی تقاضے اور قومی ضروریات ان پر حاوی ہو گئیں انہوںنے دوست ملکوں سے رابطہ کیا ، سعودی عرب کا فراخدلانہ تعاون سامنے آ چکا ہے۔ وزیر اعظم نے ا بوظہبی کا بھی دورہ کیا تھا۔ اب اس دوست نے بھی دوستی کا حق ادا کر دیا ہے اور تین ارب ڈالر پاکستان کے قومی خزانے میں جمع کرانے کا عندیہ دے دیا ہے۔ وزیراعظم چین بھی گئے تھے، یہ درست ہے کہ چین خاموشی سے امداد کرتا ہے ۔ اگرچہ اس کی تفصیل سامنے نہیں آئی مگر ہفتوں پہلے وزیر خزانہ اسدعمر نے کہہ دیا تھا کہ اب ہم ایمرجنسی سے نکل چکے ہیں۔ اور ادائیگیوں کے عدم توازن کا کوئی مسئلہ در پیش نہیں،میںنے چند ہفتے قبل اپنے ایک راوین دوست پرویز طاہر سے گفتگو کی تھی۔ وہ مشرف دور میں چیف اکانومسٹ رہے۔ انہوںنے حالات کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ شاید اب پاکستان کو آئی ایم ایف سے نہ ہی رجوع کرنا پڑے۔ اللہ ان کی زبان مبارک کرے۔پھر بھی اگر کچھ ضرورت باقی ہے اور ہم آئی ایم ایف سے قرض لیتے بھی ہیں تو یقینی بات ہے کہ سخت شرایط کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، وزیر اعظم کی کوشش بھی یہی تھی کہ عوام پر کم سے کم بوجھ پڑے۔ابو ظہبی کے تین ارب ڈالرآنے سے پاکستان کے فارن کرنسی ریزرو کی صورت حال بہتر ہوگئی ہے۔ ابھی کچھ گیپ تو ہے مگر اتنا بڑا نہیں کہ اسے ہم اپنی کوششوں سے نہ بھر سکیں،۔ ہمارے پاس اسی نوے لاکھ پاکستانیوں کا قیمتی اثاثہ ہے جو فراخدلی کا مظاہرہ کریں اورقانون کی پیروی کرتے ہوئے اپنی ترسیلات بنک چینلز سے بھجوائیں تو اس گیپ کی کوئی حیثیت نہیں رہتی۔ عمران خان اور ان کی معاشی اور مالی ٹیم نے انتہائی سرعت کے ساتھ حالات کو سنبھالا دیا ہے اور اپوزیشن کے منہ بند کر دیئے ہیں جو شور مچا رہی تھی کہ عمران حکومت پہلے سودنوں میں بڑا تیر نہیںمار سکی، زرداری نے بڑہانکی تھی کہ اس نے پہلے سو دنوںمیں ڈکٹیٹر مشرف کو چلتا کیا اور اٹھارویں ترمیم کی بنیاد رکھ دی۔ ،مشرف کا قصہ جب ختم ہو گیا تھا تو وہ اپنے دو حریفوںکے ساتھ ویسے بھی نہیں چل سکتا تھا۔ ا سنے استعفی دیا تو اپنی جان کی خیر منائی ورنہ کچھ دیر کر دیتا تو اس کو پارلیمنٹ امپیچ کر دیتی اور وہ کہیں کا نہ رہتااور اب جوموج میلے کرتا پھرتا ہے، پھر ان کے خواب ہی دیکھا کرتا۔زرداری نے تو دشمنی پالی مگر عمران نے عوام دوستی اور ملک دوستی کا حق ادا کر دیا۔ یہ کہنے کے باوجود کہ ملک کے وزیراعظم کو بھیک مانگتے شرم آئے گی۔ انہوںنے اس قوم کی بھوک مٹانے اور ملک کو ترقی کی شاہراہ پر چلانے کے لئے دوست ممالک سے رابطہ کیا۔ یہ عمران کی گڈ لک ہے کہ ملک کے دوستوں نے انہیں مایوس نہیں کیا۔ اس سے عمران کی لیڈر شپ کا سکہ جم گیاا ور اب کسی ا پوزیشن لیڈر کو کسی قسم کا طعنہ دینے کا بہانہ میسر نہیں رہا۔ دوسری طرف برٹش ایئر ویز نے پاکستان کے لئے معطل شدہ پروازیں بحال کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں مکمل امن قائم ہو چکا ہے اور حکومت بھی ہر لحاظ سے مستحکم ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ملک میں روز دہشت گردی کے واقعات رونما ہو رہے تھے اور بیرونی سرمایہ کاروں کے علاوہ ملکی سرمایہ کار بھی دنیا میں گوشہ عافیت تلاش کر رہے تھے۔ وارا ٓن ٹیرر میں ہمارے ستر ہزار بے گنا افراد شہید ہوئے جن میں فوج کے دس ہزار افرا دا ور جوان بھی شامل ہیں۔ پاک فوج نے بے مثال قربانی دے کر دہشت گردی کے فتنے کی سر کوبی کی ہے۔ اور پاکستان کوامن کا گہوراہ بنا دیا ہے۔ یہ کام امریکہ اور اتحادی افواج افغانستان میں انجام نہیں دے سکیں اور انہیں آخرکار طالبان سے مذاکرات ہی کرتے بنی ہے۔ مگر پاکستان میں اب پارکوں میں رونق ہے۔ سکول کالج کھلے ہیں اور مسجدوں، بازاروں اور مزاروں پر مکمل چہل پہل ہے۔ پاک فوج کا تو یہ اعزاز ہے ہی لیکن اس کا ایک فائدہ عمران حکومت کو بھی ہوا ہے ا ور ا سکی نیک نامی کا ڈنکا بج رہا ہے۔پی ٹی آئی کی حکومت نے ملک کو جس تیزی سے مالی اور معاشی بحران سے نکال باہر کیا ہے، ا س سے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ اپنے منشور کو عملی جامہ پہناتے ہوئے عام آدمی کی غربت بھی ختم کر کے دم لے گی۔پاکستان کی برآمدات میںاضافہ ہو گااور درا ٓمدات کو ایک حد کے اندر رکھا جائے گا۔ بیرونی اور ملکی سرمایہ کار سر گرم عمل ہوں گے۔ صنعت، تعلیم ، مواصلات، صاف پانی کے منصوبے بھی مکمل ہوں گے اور پاکستان کی پس ماندگی ایک قصہ پارینہ بن جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں