40

’’میاں صاحب آپ ان نالوں پر سانس بھی نہیں لے سکتے‘‘

پنجاب میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس سے متعلق کیس کی سپریم کورٹ آف پاکستان میں سماعت کے دوران تحریک انصاف کے رہنما میاں محمود الرشید عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ان سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ لاہور میں کئی گندے نالوں میں اسپتالوں اور صنعتوں کافضلہ پھینکا جاتا ہے، میاں صاحب آپ ان نالوں پر سانس بھی نہیں لے سکتے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گندے نالوں پر آبادیاں ہیں اور لوگ رہتے ہیں، دریائے راوی میں سارے گندے نالوں کا پانی گرتا ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ حکومت کو ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کا کہا تھا، اس نے ہامی بھی بھری لیکن نئی حکومت کہتی ہے کہ پلانٹس نہیں لگ سکتے۔

انہوں نے کہا کہ آگاہ کریں کہ لاہور کے شہریوں کو زہر سے کیسے نجات دلائیں گے؟ لاہور نے بھی آپ کو بہت ووٹ دیے ہیں، اس شہر کے ساتھ پیار دکھانے کا وقت آگیا ہے۔

محمود الرشید نے جواب دیا کہ ماضی میں منصوبوں کو ترجیح نہیں دی گئی۔

چیف جسٹس نے ان سے کہا کہ عدالت نوٹس نہ لیتی تو نئی حکومت سو رہی تھی۔

میاں محمود الرشید نے کہا کہ بابو صابو ٹریٹمنٹ پلانٹ کا کام ستمبر 2019ء میں شروع ہوگا، منصوبہ ڈھائی سال میں مکمل ہوگا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ مجموعی طور پر ساڑھے تین سال لاہور کو عذاب جھیلنا ہوگا۔

عدالت نے میاں محمود الرشید سے ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب کا پلان طلب کر لیااور ہدایت کی کہ منصوبے کا ٹائم فریم بیان حلفی کے ساتھ جمع کرائیں۔

چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں مزید کہ کہ آپ وزیر رہیں یا نہ رہیں عدالت ایکشن لے گی، البتہ عدالت پالیسی معاملات میں مداخلت نہیں کرے گی۔

جسٹس ثاقب نثار نے یہ بھی کہ کہ آپ نیا پاکستان بنانے جا رہے ہیں، نئے پاکستان میں نئے کام بھی تو کریں۔

عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں