34

فرشتہ خصلت انسان – ڈاکٹر عبدالقدیر خان

پاکستان میں اس وقت معاشی حالات بے حد خراب ہیں۔ صبح سے شام تک لوگ ہائے ہائے کرتے، مہنگائی کا رونا روتے رہتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی بداخلاقی بھی زوروں پر ہے لیکن اسی ملک اور اسی قوم میں فرشتہ خصلت انسان بھی موجود ہیں جو فلاحی کام کررہے ہیں۔ اسی ہر دلعزیز روزنامہ میں کئی بار میں نے ان فرشتہ خصلت انسانوں کا ذکر کیا ہے۔ ان میں عزیز دوست محمد بشیر فاروقی صدر سیلانی ویلفیئر ٹرسٹ، حاجی ڈاکٹر حنیف طیب صدر المصطفیٰ ٹرسٹ، محمد رمضان چھیپا، ڈاکٹر عبدالباری منتظم انڈس اسپتال وغیرہ اور لاتعداد صنعتکار ہیں جن کے نام لکھنے سے گریز کررہا ہوں کہ کہیں بھتہ خور عیدی لینے نہ پہنچ جائیں۔ میں اپنے نرم دل، مخیر دوستوں کے ساتھ خود ہی لاتعداد فلاحی سرگرمیوں میں مشغول ہوں۔

آج آپ کو ایک خدمت خلق کرنے والے مریضوں کی تیمارداری کرنے والے اور موذی مرض، گردوں کی خرابی، کے علاج میں دل وجان سے منہمک ڈاکٹر خلیل الرحمٰن کا ذکر کرنا پسند کرونگا۔ یہ جو نیک کام کررہے ہیں وہ نہایت قابلِ تحسین ہے اور آپ اس میں ان کاہاتھ بٹا سکتے ہیں۔

میرے عزیز دوست، خدمت خلق کے جذبے سے سرشار، ڈاکٹر خلیل الرحمٰن کئی برس سے سعودی عرب میں انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ اُنہیں خیال آیا کہ اگر امیروں کی خدمت سے کمائے ہوئے پیسے سے پاکستان میں غریبوں کی خدمت کی جائے تو یقیناً اللہ رب العزّت کی خوشنودی حاصل ہوگی اور سکون قلب بھی ملے گا۔ آپ دسمبر 2012میں میرے پاس تشریف لائے کہ وہ اور ان کے کئی ڈاکٹر ساتھی پاکستان میں گردوں کے علاج کا ایک اسپتال بنانا چاہتے ہیں اور ایبٹ آباد میں جگہ ہمارے پاس ہے آپ اس کا سنگ بنیاد رکھ دیں۔ میں ایسے نیک کاموں میں فوراً شرکت کے لئے تیار رہتا ہوں۔ میں نے ہامی بھر لی اور جس دن جانا تھا اس سے ایک دن پہلےہی اپنے نہایت پیارے، قابل، ماہر نیورو سرجن پروفیسر ڈاکٹر خلیق الزماں کو فون کیا اور درخواست کی کہ وہ میرے ساتھ چلیں۔ وہ فوراً تیار ہوگئے۔ ڈاکٹر خلیق خود ایک فرشتہ خصلت ڈاکٹر ہیں۔ بافا میں ایک فلاحی کیمپ ہر ہفتہ لگاتے ہیں۔ پہلے پمز میں نیوروسرجن کے محکمے کے سربراہ تھے ریٹائرمنٹ کے بعد بھی فلاحی کام کرتے ہیں۔ ان کی بیگم ثمینہ خلیق بھی پروفیسر تھیں اور وہ بھی نیوروسرجن ہیں۔ جب مجھے سلپ ڈسک (کمر) میں سخت تکلیف ہوئی اور چلنے پھرنے سے محتاج ہوگیا تو ان دونوں نے ہمارے KRL کے اسپتال میں میرا آپریشن کیا تھا اور میں پھر ماشاءاللہ چلنے پھرنے کے قابل ہوگیا۔ ڈاکٹر خلیق الزماں اور میں ایبٹ آباد پہنچ گئے وہاں ہم نے کڈنی سنٹر کا سنگ بنیاد رکھا۔ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن نے پروجیکٹ کے بارے میں تفصیل بتلائی۔ یہ بہت ہی اچھا اور عوامی خدمت کا اعلیٰ پروگرام تھا۔ دسمبر میں وہاں سردی تھی قریب ہی اچھا ریسٹورنٹ تھا۔ گرم گرم کھانے نے جان میں جان ڈال دی۔ چند دن پیشتر ڈاکٹر خلیل الرحمٰن نے فون کیا اور دعوت دی کہ اسلام آباد کلب میں شام کو فنکشن ہے جہاں پروجیکٹ کی ترقی و تکمیل کے بارے میں بتلایا جائے گا۔ اس مرتبہ پھر ڈاکٹر خلیق الزماں (اور بیگم بھی) میری دعوت پر پہنچ گئے۔ پروجیکٹ کی تکمیل اور خدمات کے بارے میں جان کر دل خوش ہوا اور حقیقت یہ ہے کہ خلیل بھائی کے بھیس میں وہاں ایک فرشتہ خدمتِ خلق کے بارے میں گفتگو کررہا تھا۔

بہت ہی کم لوگوں کو اس کا علم ہوگا کہ پاکستان میں لاکھوں لوگ گردوں کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ آپ کسی کلینک، اسپتال جائیں جہاں ڈائیلیسز کی سہولت ہے وہاں لوگوں کی قطاریں لگی ہیں اور ایک روز کے علاج پر تقریباً چار ہزار روپیہ خرچ ہوتے ہیں۔ ملک میں بہت کم سینٹر ہیں جہاں یہ سہولت ہے۔ ہمارے اپنے لاہور کے اسپتال میں 15مشینیں 24گھنٹے کام کرتی ہیں، یہ علاج مفت کیا جاتا ہے۔ گردے کی بیماری جب بگڑ جاتی ہے تو پھر گردے کی پیوندکاری یا تبدیلی لازمی ہوجاتی ہے۔ ان حقائق کو دیکھ کر ہی برادرم ڈاکٹر خلیل نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر پاکستان ویلفیئر کڈنی ٹرسٹ کے زیر سایہ ایبٹ آباد میں پاکستان کڈنی سنٹر کی بنیاد 2013میں میرے ہاتھوں رکھوائی۔ 2015میں 14مشینوں کی مدد سے اس سنٹر نے اچھی طرح کام کرنا شروع کردیا۔ اب تک ہزاروں مریضوں کا مفت علاج ہوچکا ہے یہی نہیں بلکہ خلیل بھائی کے نہایت نیک و ہمدرد ساتھیوں نے صوبے میں جگہ جگہ کیمپ لگا کر بیمار لوگوں کا پتہ چلایا اور ان کو علاج کی سہولت فراہم کی۔ اس قسم کی سہولت پورے ہزارہ کے علاقہ میں موجود نہیں ہے۔ اس وقت خلیل بھائی اور ان کے ساتھی آپریشن تھیٹر کی تعمیر میں سرگرم ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ جلدازجلد کم از کم 50بستروں پر مشتمل سینٹر کام کرنے لگے اور پوری کوشش ہے کہ گردوں کی تبدیلی اور اس بیماری سے متعلق ریسرچ پر کام ہونے لگے۔ اس وقت خلیل بھائی اور ان کے رفقائے کار کا مشن یہ ہے کہ اس سینٹر کو اعلیٰ ترین سنٹر بنایاجائے اور ضرورت مند مریضوں کو اچھی سہولت و علاج مہیا کیا جائے اور یہ سنٹر نہ صرف علاج کرے بلکہ وہ اسباب بھی تلاش کرے جو اس بیماری یعنی گردوں کی خرابی کا باعث بنتے ہیں۔ جس تندہی و جذبہ اور خدمت خلق کے جوش سے خلیل بھائی اور ان کے ساتھی یہ کام کررہے ہیں مجھے پوری اُمید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنے نیک مقاصد میں ان شاءاللہ ضرور پوری طرح کامیاب کرے گا۔ مگر ایسے بڑے کام کے لئے بہت سے ذرائع کی ضرورت پڑتی ہے یعنی خاصی رقم اور فنڈز کی ضرورت پڑتی ہے۔ اسپتال بنانا اور چلانا اتنا آسان کام نہیں۔ نہ صرف پرخلوص ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے بلکہ بڑے فنڈز کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔ اس سلسلے میں جو اِن کی ضروریات ہیں وہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں کہ آپ آگے بڑھیں اور ان کا ہاتھ بٹائیں۔ اس وقت ڈاکٹر خلیل الرحمٰن کو مندرجہ ذیل آلات کی سخت ضرورت ہے تمام اَصحاب صلاحیت اور مخیر حضرات سے درخواست ہے کہ وہ اس نیک کام میں جلد از جلد بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور اس فلاحی ادارہ کی مدد کریں تاکہ یہ لوگ بیمار غُرباء کی خدمت کرسکیں۔

(1) آپریشن تھیٹر مکمل ہوگیا ہے اس کے لئے آٹو کِلیو (Autoclave)یعنی سامان کو جراثیم سے پاک کرنے کے لئے بھاپ والا آلہ۔ قیمت تقریباً 30 لاکھ روپیہ۔ (2)اسپتال میں استعمال ہونے والی گیسز کا آلہ۔ قیمت تقریباً 35 لاکھ روپیہ۔ (3)اس وقت ڈائیلیسز(Dialysis) کی 15مشینیں چوبیس گھنٹہ استعمال ہورہی ہیں اور روزانہ 40 مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے۔ ان کے استعمال اور بیماری کی خدمت پر سالانہ تقریباً 4کروڑ روپیہ خرچ ہوتا ہے۔(4) C-Arm Fluoroscopy اسکی قیمت تقریباً 80 لاکھ روپیہ۔ (5)کارڈیک مانیٹر تقریباً دو ہزار ڈالر (تقریباً تین لاکھ چار ہزار روپیہ)۔

آپ اپنی زکوٰۃ، صدقہ، تحفہ یہاںجمع کراسکتے ہیں:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں