27

حضرت یونس علیہ السّلام

حضرت یونس علیہ السّلام دجلہ کے بائیں کنارے پر آباد عراقی شہر ’’موصل‘‘ میں پیدا ہوئے۔ آپؑ،حضرت ھودؑ کی اولاد میں سے تھے۔ موصل کے مقابل’’نینوا‘‘ شہر تھا، جو اُس زمانے میں اپنے عروج پر تھا اور وہاں قومِ ثمود آباد تھی۔ نینوا کی آبادی ایک لاکھ سے زیادہ تھی۔ جیسا کہ قرآنِ پاک میں ہے’’ اور اُن (یونسؑ) کو لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں کی طرف پیغمبر بنا کر بھیجا۔‘‘(سورۃ الصافات147) حضرت یونسؑ کی عُمر 28سال تھی، جب اللہ تعالیٰ نے اُنھیں اہلِ نینوا کی رُشد و ہدایت پر مامور فرمایا۔ مفسّرین کے مطابق، حضرت یونسؑ کا عہد 781 تا 741 قبلِ مسیح ہے۔ آپؑ کا قرآنِ کریم کی چھے سورۂ مبارکہ میں ذکر آیا ہے۔ سورۃ النساء، سورۂ انعام، سورۂ یونس، سورۂ الصٰفٰت، سورۃ الانبیاء اور سورۃ القلم ، اِن میں پہلی چار سورۂ مبارکہ میں حضرت یونسؑ کا نام اور باقی دو میں’’ ذوالنّون‘‘ اور’’ صاحب الحوت‘‘ یعنی’’ مچھلی والا‘‘ کہہ کر ذکر کیا گیا ہے۔ نون، بڑی مچھلی کو کہتے ہیں، چوں کہ آپؑ کئی دن ایک مچھلی کے پیٹ میں رہے، اس لیے’’ مچھلی والا‘‘ کہا گیا۔ قرآنِ کریم کی دسویں سورت، آپؑ کے نام پر ہے۔
حضرت یونس علیہ السّلام کا واقعہ

حضرت یونسؑ ایک عرصے تک نینوا کے لوگوں کو توحید کی دعوت اور بُت پرستی سے روکتے رہے، مگر قوم نے اُن کی دعوت قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔ صرف یہی نہیں، غرور و تکبّر میں مبتلا قوم دیگر نافرمان اقوام کی طرح آپؑ کی دعوت کا مذاق بھی اُڑاتی رہی۔ جب اُن کی سرکشی اور نافرمانی انتہا کو پہنچ گئی، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السّلام کو حکم دیا کہ لوگوں کو آگاہ کردو کہ تین دن کے اندر اندر اُن پر عذاب آنے والا ہے۔ آپؑ نے قوم میں اس کا اعلان کردیا۔ یہ سُن کر قومِ یونسؑ نے آپس میں مشورہ کیا، تو اس بات پر اُن سب کا اتفاق ہوا کہ’’ یونس علیہ السّلام کو کبھی جھوٹ بولتے نہیں دیکھا گیا،لہٰذا اُن کی بات نظرانداز نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ مشورے میں یہ بھی طے ہوا کہ دیکھا جائے کہ اگر یونس علیہ السّلام رات بستی کے اندر اپنے گھر میں مقیم رہتے ہیں، تو سمجھ لو کہ کچھ نہیں ہوگا اور اگر وہ یہاں سے کہیں اور چلے جاتے ہیں، تو یقین کرلو کہ صبح عذاب ضرور آئے گا۔ قصّہ مختصر، حضرت یونسؑ رات کو اُس بستی سے نکل گئے۔ صبح ہوئی، تو عذابِ الٰہی ایک سیاہ دھویں اور بادل کی شکل میں بستی والوں کے سَروں پر منڈلانے لگا، جب وہ اُن کے قریب ہونے لگا، تو لوگوں کو یقین ہوگیا کہ اب وہ سب ہلاک ہونے والے ہیں۔ یہ دیکھ کر حضرت یونسؑ کو تلاش کیا گیا کہ اُن کے ہاتھ پر ایمان لے آئیں اور توبہ کرلیں، مگر آپؑ کو نہ پایا، تو خود ہی اخلاصِ نیّت کے ساتھ توبہ و استغفار میں لگ گئے اور اپنے گھروں سے ایک میدان میں نکل آئے۔ عورتیں، بچّے اور جانور سب اُس میدان میں جمع کردیئے گئے۔تمام بستی والے ٹاٹ کے کپڑے پہن کر عجز و انکساری کے ساتھ توبہ کرنے اور عذاب سے پناہ مانگنے میں اس طرح مشغول ہوئے کہ پورا میدان آہ و بکا سے گونجنے لگا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی توبہ قبول فرما لی اور عذاب اُن سے ہٹا دیا۔ روایت میں ہے کہ یہ عاشورہ یعنی دسویں محرّم کا دن تھا۔ اُدھر حضرت یونسؑ بستی سے باہر اس انتظار میں تھے کہ اب اس قوم پر عذاب نازل ہوگا۔ اُن کے توبہ و استغفار کا حال اُنھیں معلوم نہ تھا۔ جب عذاب ٹل گیا، تو اُنھیں فکر ہوئی کہ’’ اب تو قوم مجھے جھوٹا قرار دے دے گی، کیوں کہ مَیں نے اعلان کیا تھا کہ تین دن کے اندر عذاب آجائے گا۔‘‘ اُس قوم کا قانون تھا کہ جس شخص کا جھوٹ معلوم ہو اور وہ اپنے کلام پر کوئی شہادت پیش نہ کرسکے، تو اُسے قتل کردیا جاتا، تو یونس علیہ السّلام کو فکر ہوئی کہ اُنھیں بھی جھوٹا قرار دے کر قتل کردیا جائے گا۔ اس رنج و غم اور پریشانی کے عالم میں اس شہر سے نکل جانے کا ارادہ کرکے چل دیئے، یہاں تک کہ بحیرۂ روم کے کنارے پہنچ گئے۔ وہاں ایک کشتی دیکھی، جس میں لوگ سوار تھے۔ آپؑ کو اُن لوگوں نے پہچان لیا اور کرائے کے بغیر سوار کرلیا۔ کشتی روانہ ہوکر جب وسط میں پہنچی، تو دفعتاً ٹھہر گئی،آگے بڑھتی ہے اور نہ پیچھے۔ کشتی والوں نے منادی کی کہ ہماری اس کشتی میں کوئی ظالم، گناہ گار یا بھاگا ہوا غلام سوار ہوجاتا ہے، تو یہ کشتی خود بہ خود رُک جاتی ہے۔ ایسے آدمی کو چاہیے کہ خود کو ظاہر کردے تاکہ اُس کی وجہ سے سب پر مصیبت نہ آئے۔ اس پر حضرت یونسؑ بول اٹھے کہ’’ وہ بھاگا ہوا غلام، گناہ گار مَیں ہی ہوں۔‘‘ کیوں کہ اپنے شہر سے نکل کر کشتی میں سوار ہونا ایک طبعی خوف کی وجہ سے تھا، باذنِ الہیٰ نہ تھا اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر یوں چلے آنے کو حضرت یونسؑ کی پیغمبرانہ شان نے ایک گناہ قرار دیا کہ پیغمبر کی کوئی نقل و حرکت بلا اذنِ الٰہی نہیں ہونی چاہیے تھی۔بہرحال، آپؑ نے فرمایا کہ’’ مجھے دریا میں ڈال دو، تو تم سب اس عذاب سے بچ جائو گے‘‘، مگر کشتی والے اس پر تیار نہ ہوئے، بلکہ اُنہوں نے قرعہ اندازی کی تاکہ جس کا نام نکلے، اُسے دریا میں ڈالا جائے، لیکن قرعہ اندازی میں بھی آپؑ ہی کا نام نکل آیا۔ لوگوں کو اس پر تعجّب ہوا، تو کئی مرتبہ قرعہ اندازی کی گئی اور ہر مرتبہ آپؑ ہی کا نام آتا رہا۔ قرآنِ کریم کی سورۃ الصافات کی آیت نمبر 141 میں اس قرعہ اندازی اور حضرت یونس علیہ السّلام کا نام نکلنے کا ذکر موجود ہے۔

ایک طرف قرعہ اندازی میں نام نکلنے پر آپؑ کو دریا میں ڈالے جانے کا سامان ہورہا تھا، دوسری طرف، ایک بہت بڑی مچھلی اللہ تعالیٰ کے حکم پر کشتی کے قریب منہ کھولے موجود تھی کہ آپؑ کو اپنے پیٹ میں جگہ دے۔ حضرت یونس علیہ السّلام جیسے ہی پانی میں گئے، مچھلی نے فوراً اُنھیں اپنے پیٹ میں لے لیا۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا کہ’’ حضرت یونس علیہ السّلام اُس مچھلی کے پیٹ میں چالیس روز رہے۔ یہ اُنھیں زمین کی تہہ تک لے جاتی اور دُور دراز کی مسافتوں میں پِھراتی رہی۔‘‘ بعض افراد نے سات، بعض نے پانچ دن اور کئی ایک نے مچھلی کے پیٹ میں رہنے کی مدّت چند گھنٹے لکھی ہے۔ (مظہری) حقیقتِ حال تو اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے۔ اس حالت میں حضرت یونسؑ نے دُعا کی ’’لااِلٰہ اِلّا اَنتَ سُبحانکَ اِنّی کُنتُ مِنَ الظّالِمین‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے دُعا قبول فرمائی اور مچھلی نے آپؑ کو بالکل صحیح سالم حالت میں کنارے پر ڈال دیا۔مچھلی کے پیٹ کی گرمی سے اُن کے بدن پر کوئی بال نہ رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کے قریب ایک درخت اُگا دیا، جس کے پتّوں کا سایہ آپؑ کے لیے راحت کا سبب بن گیا۔نیز، ایک جنگلی بکری اللہ تعالیٰ کے حکم سے صبح، شام آپؑ کے پاس آکھڑی ہوتی اور آپؑ اُس کا دودھ پی لیتے۔ اس قصّے کے جتنے اجزاء قرآنِ پاک میں مذکور ہیں یا احادیثِ مبارکہؐ سے ثابت ہیں، وہ تو یقینی ہیں، باقی اجزاء محض تاریخی روایات پر مشتمل ہیں، جن پر کسی شرعی مسئلے کا مدار نہیں رکھا جاسکتا۔(معارف القرآن، ج4ص515)

سمندری جانوروں کی تسبیح

حضرت ابو ہریرہؓ سے منقول ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ میں قید کرنے کا ارادہ فرمایا، تو مچھلی کو حکم دیا’’ اِن کو لے لو، لیکن اِن کے گوشت پر تیرا تصرّف نہیں، کیوں کہ یہ تیری غذا نہیں ہیں۔‘‘ جب مچھلی آپؑ کو لے کر سمندر کی انتہائی نچلی سطح میں پہنچی، تو آپؑ نے کچھ آہٹیں سُنیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی’’ یہ سمندری جانوروں کی تسبیح ہے،‘‘ اس موقعے پر حضرت یونسؑ نے بھی تسبیح کی۔جب فرشتوں نے آپؑ کی تسبیح سُنی، تو بارگاہِ خداوندی میں عرض کرنے لگے’’ اے ہمارے پروردگار! ہم ایک نحیف اور کم زور سی آواز کسی اجنبی زمین سے سُن رہے ہیں۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’ یہ میرا بندہ یونسؑ ہے۔‘‘ فرشتوں نے عرض کیا’’ وہ تو نیک بندے ہیں اور اُن کی طرف سے ہر شب و روز آپ کے پاس نیک عمل پہنچتا ہے۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا’’ ہاں! یہ میری بہت اچھی تسبیح کرتے ہیں۔‘‘ پھر فرشتوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور حضرت یونسؑ کی سفارش کی، تو اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو حکم دیا اور اُس نے آپؑ کو سمندر کے کنارے ڈال دیا۔‘‘ (قصص الانبیاء، ابنِ کثیر)

قرآنِ کریم میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ ’’پھر ہم نے اُن کو، جب کہ وہ بیمار تھے، فراخ میدان میں ڈال دیا اور اُن پر ایک بیل دار درخت اُگا دیا۔‘‘(سورۃ الصافات145,146) آپؑ کا بدن مچھلی کے پیٹ میں رہنے سے انتہائی لاغر اور کم زور ہوچُکا تھا۔ ابنِ مسعودؓ فرماتے ہیں کہ’’ آپؑ ایسے ہوگئے تھے، جیسے چوزہ، جس پر ابھی پَر بھی نہ آئے ہوں۔‘‘ ابنِ عبّاسؓ اور زیدؓ فرماتے ہیں کہ’’ جب بچّہ پیدا ہوتا ہے، اُس وقت کے بچّے کی طرح آپؑ کی حالت تھی اور بالکل دُھنی ہوئی روئی کی طرح نرم و نازک تھے اور بدن پر کچھ نہ تھا۔‘‘ روایت میں ہے کہ جب آپؑ مچھلی کے پیٹ میں ٹھہر گئے، تو گمان کیا کہ شاید وفات پا گئے ہیں،اس پر آپؑ نے اپنے اعضاء کو جنبش دی، تو اُن میں حرکت ہوئی، تو فوراً سجدہ ریز ہوگئے اور بارگاہِ ربّ العزّت میں عرض کیا’’اے پروردگار! مَیں تیرے لیے ایسی جگہ مسجد(سجدہ گاہ) بناتا ہوں، جہاں کسی دوسرے نے تیری عبادت نہ کی ہوگی۔‘‘

اللہ کی تسبیح کی برکات

قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے’’ پھر اگر وہ (اللہ کی) پاکی بیان نہ کرتے، تو لوگوں کے اٹھائے جانے کے دن تک، اُس کے (مچھلی کے) پیٹ ہی میں رہتے۔‘‘ (سورۃ الصافات 144:143)تفسیر ابنِ جریر میں حضرت سعد بن مالکؓ سے مروی ہے کہ اُنھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا’’اللہ کو اس نام سے پکارا جائے، تو دُعا قبول ہوتی ہے اور جو مانگا جائے، اللہ عطا فرماتے ہیں۔‘‘ یعنی حضرت یونسؑ کی دُعا کے ساتھ۔ راوی کہتے ہیں کہ مَیں نے استفسار کیا’’ یارسول اللہؐ! یہ حضرت یونسؑ کے لیے خاص ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے ہے؟‘‘ آپﷺ نےفرمایا’’ یہ حضرت یونسؑ کے لیے خاص ہے اور مومنین کے لیے عام، جب بھی وہ اس کے ساتھ دُعا کریں۔ کیا تم نے اللہ کے فرمان کو نہیں سُنا؟‘‘ ’’پھر (یونسؑ نے اپنے ربّ کو) تاریکیوں میں پکارا ’’لااِلٰہ اِلا اَنت سُبحانکَ اِنّی کُنت مِن الظّالِمین‘‘ (تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تُو پاک ہے۔ بے شک مَیں ہی قصوروار ہوں)، تو ہم نے اُس کی دُعا قبول کی اور اس کو غم سے نجات دی اور ہم مومنین کو اس طرح نجات دیتے ہیں۔‘‘ (سورۃ الانبیاء 88,87) حضرت سعدؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’جس نے حضرت یونسؑ کی دُعا کے ساتھ دُعا کی، اُس کی دُعا ضرور قبول ہوگی۔‘‘ (ابنِ کثیر)

توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا

پچھلی اقوام میں قومِ یونسؑ کی مثال سب سے منفرد ہے کہ جس نے عذاب کے وقوع ہونے سے پہلے ہی صدقِ دل کے ساتھ عاجزی و آہ وزاری کرتے ہوئے توبہ استغفار کیا اور اللہ تعالیٰ نے اُس قوم سے اپنا عذاب ہٹا دیا، جب کہ قومِ نوحؑ، قومِ ھودؑ، قومِ صالح ؑاور قومِ لوطؑ وغیرہ عذاب سے ڈرانے اور بار بار تنبیہ کے باوجود شرک و کفر پر ڈھٹائی سے جمی رہیں اور عذاب کی بات کو مذاق سمجھتی رہیں، چناں چہ عذابِ الہٰی کا شکار ہوکر ہمیشہ کے لیے نیست و نابود ہوگئیں۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں’’ پس، کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی، تو اُس کا ایمان اُسے نفع دیتا؟ سوائے یونسؑ کی قوم کے۔ جب وہ ایمان لائی، تو ہم نے دنیوی زندگی میں اُن سے رسوائی کا عذاب دُور کردیا اور ایک مدّت تک اُن کو (دنیوی فوائد سے) بہرہ مند رکھا۔‘‘ (سورۂ یوسف98)اس تفسیر کا حاصل یہ ہے کہ دنیا کا عذاب سامنے آجانے پر بھی توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوتا، بلکہ توبہ قبول ہوسکتی ہے البتہ آخرت کا عذاب سامنے آجانے کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی اور عذابِ آخرت کا سامنے آنا ،قیامت کے دن ہوگا یا موت کے وقت۔ (معارف القرآن)جامع ترمذی کی حدیث ہے کہ ’’حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا’’ اللہ تعالیٰ بندے کی توبہ قبول فرماتے رہتے ہیں، جب تک وہ غرغرہ کی حالت میں نہ پہنچ جائے۔‘‘ غرغرہ کی حالت سے مُراد، موت کا وہ وقت ہے کہ جب نزع کے وقت فرشتے سامنے آجاتے ہیں۔ اُس وقت دنیا کی زندگی ختم ہوکر آخرت کے احکام شروع ہوجاتے ہیں، اس لیے اُس وقت کا کوئی عمل قابلِ قبول نہیں ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں