39

چیئرمین نیب کےخلاف عدالت جائیں گے: ملک احمد خان، نھیں جائیں گے: مریم اورنگ زیب

مسلم لیگ(ن)نے چیئرمین نیب کے استعفیٰ کا مطالبہ کر دیا، مسلم لیگ( ن) کے رہنما ملک احمد خان نے کہا ہے کہ چیئرمین نیب کے انٹرویو کے خلاف عدالت میں جائیں گے،اگر وزیراعظم کو اس ملک میں نکالا جا سکتا ہے تو چیئرمین نیب کو کیوں نہیں،نیب قوانین کا غلط استعمال کر رہا ہے،نیب چاہتا ہے کہ جس کی چاہے گردن پکڑ لے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو، نیب سے گرفتاری کی وجہ پوچھو تو کہتے ہیں کہ یہ خفیہ دستاویز ہے،ملکی مفادات کی تشریح نیب نے کرنی ہے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا دیں، چیئرمین نیب نے کہا تھاکہ حکومت کے خلاف کاروائی کی تو حکومت گر جائے گی، نیب پی ٹی آئی کا پلاننگ یونٹ ہے۔ہفتہ کو مسلم لیگ( ن) کے رہنما ملک احمد خان نے میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ چیئرمین نیب اپنے عہدے سے مستعفی ہوں،شہبازشریف پر ثبوت کے بغیر الزامات لگائے گئے،صاف پانی کیس میں نیب کو شہباز شریف کو گرفتار نہیں کرنا چاہیے تھا،ہم چیئرمین نیب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وضاحت کریں،ہم اخبار کے کالم پر چیئر مین نیب کے خلاف ہتک عزت کا کیس فائل کر رہے ہیں،چیئرمین نیب کےخلاف لاہورہائیکورٹ میں بھی جارہے ہیں،نیب کے نوٹسز نے لوگوں کوخود کشی کرنے پر مجبور کردیا،کیا نیب ماورائے قانون اور بدمعاش ادارہ ہے،نیب ہمیں گرفتاری کی وجوہات بتانے پربھی تیارنہیں،نیب قانون میں کہاں لکھا ہے کہ چیئرمین نیب خود سوالنامہ ترتیب دیں ،ایف بی آر کے چھاپوں سے لوگوں نے بینکوں سے پیسے نکال لئے ہیں، کاروباری کمیونٹی نے کاروبار ختم کر دیئے ہیں،چیئرمین نیب جس کو چاہے گرفتار کرلیتے ہیں اور ان سے بعد میں ثبوت مانگتے ہیں،نیب کو مقدس گائے بنادو، غلط بھی کرے تو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا،چیئرمین کے حوالے سے کالم نگار کے خلاف بھی عدالت میں جا رہے ہیں، ہم چیئرمین نیب سے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہیں،نیب قوانین کا غلط استعمال کر رہا ہے،کیا صاف پانی کمپنی کے پیسے باہر سے بھیجے گئے؟اگر باہر سے پیسے بھیجے بھی گئے تو بتا دیں کہ کس کے پیسے بھیجے گئے، چیئرمین نیب چاہتے ہیں کہ جن پر الزام لگیں وہ حکومت میں مناسب جلیلہ پر فائز نہ ہوں،اب قانون میں کس کی تشریح مانی جائے نیب کی یا عدالت کی؟کیا نیب والے قانون سے بالاتر ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، نیب سے گرفتاری کی وجہ پوچھو تو کہتے ہیں کہ یہ خفیہ دستاویز ہے، نیب چاہتا ہے کہ جس کی چاہے گردن پکڑ لے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو، ملکی مفادات کی تشریح نیب نے کرنی ہے تو پارلیمنٹ کو تالا لگا دیں، چیئرمین نیب نے کہا تھاکہ حکومت کے خلاف کاروائی کی تو حکومت گر جائے گی، نیب پی ٹی آئی کا پلاننگ یونٹ ہے، صرف نو ماہ میں ایک ہزار ارب کا قرضہ لیا گیا، یہ ہے تبدیلی والی حکومت، معیشت چیخ چیخ کر بتا رہی ہے کہ حکومت نے اکانومی کا جنازہ نکال دیا ہے، اگر وزیراعظم کو اس ملک میں نکالا جا سکتا ہے تو چیئرمین نیب کو کیوں نہیں نکالا جا سکتا۔

جبکہ سلم لیگ (ن) کی سیکرٹری اطلاعات مریم اورنگزیب نے صوبائی سیکرٹری اطلاعات ملک احمد خان کے بیان سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا اور کہا کہ چیئرمین نیب سے استعفیٰ کے مطالبے اور ان کے خلاف اندراج مقدمہ کا بیان ملک احمد خان ذاتی رائے ہے پارٹی موقف نہیں۔ انہوں نے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ملک محمد احمد خان کے چیئرمین نیب سے متعلق بیان کو پارٹی موقف نہ سمجھا جائے۔ ا نہوں نے کہا کہ ملک احمد خان کا ویڈیو آڈیو سکینڈل کے بعد چیئر مین نیب کے استعفے کے مطالبہ اور اندراج مقدمہ کا اعلان اِنکی ذاتی رائے ہے۔احمد خان کے بیان لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے مریم اورنگزیب نے کہا کہ پارٹی صدر میاں شہباز شریف اور سینئر نائب صدر شاہد خاقان اس بارے میں واضح موقف دے چکے ہیں، چیئر مین نیب کے واقعہ سے متعلق پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جائے جو سارے معاملے کی تحقیق کرے۔

شیئر کریں:

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں