35

انڈیا الیکشن 2019: 543 صرف 22 مسلمان کیوں – محمود عالی

انڈیا کے پارلیمانی انتخابات میں ہندو نظریات کی حامل بھارتیہ جنتا پارٹی کی دوبارہ شاندار کامیابی نے ملک کے مستقبل کی راہ کم و بیش طے کر دی ہے۔اس الیکشن میں مسلمان نمائندوں کی کارکردگی بھی ماضی کے مقابلے میں مایوس کن رہی۔ خود بی جے پی نے جن چھ مسلمانوں کو اپنا امیدوار بنایا تھا ان میں سے ایک بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔
543 کے ایوان میں اب تک صرف 22 مسلمان ارکان ہی جگہ بنا پائے ہیں اور یہ تعداد گزشتہ پارلیمان کے مسلم ارکان کے مقابلے میں بھی کم ہے تاہم ابھی تک مکمل نتائج کا اعلان نہیں کیا گیا اور یہ تعداد بڑھ بھی سکتی ہے۔
نو منتخب مسلم ارکان میں سے صرف دو خواتین ہیں۔مغربی بنگال کی ریاست سے گزشتہ پارلیمان میں آٹھ مسلمان ارکان منتخب ہو کر آئے تھے تاہم اس مرتبہ اس میں 50 فیصد کی کمی ہوئی ہے اور صرف چار مسلمان ہی اس ریاست سے لوک سبھا میں پہنچ پائے ہیں جن میں نصرت جہاں روحی سمیت دو خواتین بھی شامل ہیں۔
ایسی ہی صورتحال بہار میں ہے جہاں چار کے مقابلے میں اس مرتبہ صرف دو مسلم امیدوار کامیاب ہو سکے ہیں۔
اس کے علاوہ جنوبی ریاست کیرالہ اور شمال مشرقی ریاست آسام میں بھی مسلم نمائندگی میں کمی آئی ہے۔آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ بدرالدین اجمل آسام سے خود تو کامیاب ہو گئے لیکن ان کی دوسری نشست اس بار ان کے ہاتھوں سے نکل گئی۔آسام میں غیرقانونی شہریت کا مسئلہ بہت سنگین ہے اور مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی کو شہریت چھننے کا خطرہ ہے۔
تاہم ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں صورتحال اس رجحان کے برعکس رہی ہے۔ گذشتہ پارلیمان میں یہاں سے مسلم نمائندگی صفر تھی لیکن حالیہ پارلیمان میں وہاں سے سب سے زیادہ چھ امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔
ان میں سماجوادی پارٹی کے اہم رہنما اعظم خان بھی ہیں جنھوں نے بی جے پی کی امیدوار اور اپنے زمانے کی مشہور اداکارہ جیا پردا کو شکست دی ہے۔اس کے علاوہ پنجاب اور مہاراشٹر سے بھی ایک، ایک مسلم امیدوار محمد صادق اور امتیاز جلیل کامیاب ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں ایک عرصے کے بعد کسی مسلم امیدوار کو کامیابی ملی ہے۔
امتیاز جلیل اورنگ آباد سے مجلس اتحاد المسلمین کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ کانگریس کے ٹکٹ پر محمد صادق رکنِ اسمبلی بنے ہیں۔

معروف مسلم رہنما اور مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی گزشتہ الیکشن میں آندھر پردیش سے منتخب ہوئے تھے لیکن اس بار ان کی سیٹ تلنگانہ میں آئی۔جموں کشمیر سے اس بار بھی تین مسلم اراکین منتخب ہوئے ہیں جس میں صرف فاروق عبداللہ ہی واحد امیدوار ہیں جو پھر سے کامیاب ہوئے ہیں۔
انڈین پارلیمان کی تاریخ میں مسلم نمائندوں کی سب سے بڑی تعداد یعنی 49 نمائندے سنہ 1980 کے انتخابات میں منتخب ہوئی تھی جب ایمرجنسی کی ہزیمت کے بعد اندراگاندھی کی قیادت میں کانگریس واضح اکثریت سے حکومت میں آئی تھی۔ اس پارلیمان میں کانگریس کی جانب سے 30 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔اس کے برعکس سب سے کم 11 مسلم امیدوار پہلی لوک سبھا میں منتخب ہوئے تھے۔
دہلی کی ایک اہم یونیورسٹی میں سیاسیات کا مضمون پڑھانے والے ایک استاد نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مسلمانوں کی پارلیمان میں نمائندگی کے سلسلے میں بات کی۔ان کا کہنا تھا کہ ’مسلمان پہلے سے ہی پارلیمان میں اپنے مسائل پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں البتہ سیکولر جماعتیں مسلمانوں کے مسائل کو اٹھاتی تھیں لیکن اب ان کی اپنی ہی بقا کا مسئلہ ہے اس لیے اب کوئی پارٹی سیکولرازم کی بات بھی نہیں کرتی۔
انھوں نے کہا کہ پہلے کانگریس، لالو پرشاد، ملائم سنگھ یادو یا مایاوتی وغیرہ مسلمانوں کے مسائل کو اپنے فائدے کے لیے اٹھاتے تھے گوکہ ان کے حل کی کم ہی کوشش کی جاتی تھی لیکن اب ایسا نہیں ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ مسلم امیدوار جو پارلیمان میں پہنچے ہیں وہ اپنی جماعت کی پالیسی کے تحت کام کریں گے نہ کہ مسلمانوں کے مسائل کو اٹھائیں گے۔
انھوں نے کہا اس معاملے میں مجلس اتحاد المسلمین کو استثنیٰ حاصل ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کی سیاست کرتی ہے اور ان کے مسائل پر بات کرتی ہے۔جامعہ ملیہ اسلامیہ میں انٹرنیشنل سٹڈیز میں استاد محمد سہراب نے اس بارے میں کہا کہ ‘مسلمانوں کو حاشیہ پر لانے اور ان کے ووٹ کے حقوق کو ختم کرنے کا عمل ہے جو ایک عرصے سے جاری ہے اور رواں انتخاب تو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف لڑا گیا ہے جس میں مسلمانوں کو ایک خطرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔’
انھوں نے مزید کہا کہ ‘اس کے اثرات مزید یہ ہوں گے کہ ان کے آزادی کے آئینی حقوق پر قدغن لگائی جا سکتی ہے۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں