30

رمضان المبارک اور ہمارے رویے

’’ تم سمجھتے کیا ہو خود کو؟ آنکھوں کی جگہ بٹن لگے ہیں کیا؟اتنا موٹا چشمہ لگاکر بھی اتنی بڑی گاڑی نظر نہیں آرہی؟ مَیں تم جیسے لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہوں، زبر دستی گاڑی کے سامنے آتے ہو، تاکہ حادثے کی صُورت میں پیسے اینٹھ سکو۔ ’’مگر صاحب ! مَیں تو صحیح ٹریک پہ تھا، گاڑی تو آپ بیچ میں لائے ہیں‘‘(رکشے والے نے کچھ کہنے کی کوشش کی)۔’’ خبردار! ایک لفظ بھی کہا تو زبان کھینچ لوں گا تمہاری(گاڑی والے نے چیختے ہوئے کہا)وہ تو شکر کرو کہ میرا روزہ ہے،ورنہ آج تمہاری خیر نہیں تھی۔‘‘ ’’فیضی بیٹا ! اب اُٹھ بھی جاؤ، آخر کب تک سوتے رہو گے۔تم نے فجر بھی نہیں پڑی ، اب ظہر کا وقت بھی نکلا جا رہا ہے۔ روزہ رکھنے کا مطلب صرف بھوکا پیاسا رہنا نہیں ہوتا، فرایض کی ادائیگی بھی ضروری ہے ، ورنہ اللہ تعالیٰ کو تمہارے فاقے کی ضرورت نہیں۔‘‘’’کیا ہے امّی؟ کیوں نیند خراب کر رہی ہیں؟(فیضان نے کروٹ بدلتے اور تکیہ منہ پر رکھتے ہوئے خفگی کا اظہار کیا)ایک تو ویسے ہی اتنی گرمی ہے اور میرا روزہ بھی ہے، اُس پہ آپ سونے بھی نہیں دے رہیں، ابھی تو امتحان سے فارغ ہوا ہوں۔ یہی تو دن ہیں سونے کے ،پھر کہاں چین کی نیند نصیب ہوگی۔‘‘’’ماما دیکھیں ناں، پورے دس روزے گزر چُکے ہیں، مگر مجال ہے کہ میرا وزن ایک پاؤنڈبھی کم ہو اہو(فریحہ نے اپنی امّی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا)مَیں نے پہلےہی سوچ لیا تھا کہ اس رمضان بہت اچھی طرح ڈائیٹنگ کروں گی اور کم از کم 4،5کلو وزن تو کم کر ہی لوں گی۔ ڈائیٹنگ کے لیے بھلارمضان سے اچھا اور کون سا مہینہ ہو سکتا ہے۔‘‘ ’’میری گڑیا! رمضان وزن گھٹانے کا نہیں ،نیکیاں کمانے کا مہینہ ہے۔ ہر کام بھول کر صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول ہو جاؤ، ڈائیٹنگ وغیرہ کے لیے تو پوراسال پڑا ہے۔‘‘امّی نے پیار سے سمجھایا ’’افوہ! ایک تو امّی آپ کچھ سمجھتی نہیں ہیں، بس فوراً لیکچر دینا شروع کر دیتی ہیں، جائیں جا کر اپنے لاڈلے کو اُٹھائیں،جو نائٹ میچ کھیل کر آیا ہے اور روزے سے پانچ منٹ پہلے اُٹھ کر ہم سب پر احسان کرے گا۔ مَیں کم از کم اُس سے تو بہترہی ہوں ناں، پورا روزہ سوتے ہوئے تو نہیں گزار تی۔ ‘‘فریحہ بھلا کہاں چُپ ہونے والی تھی۔
یہ ساری باتیں،کہانیاں تخیّلاتی نہیں، بلکہ ہمارے ہی معاشرے کے مجموعی رویّے کی عکّاس ہیں۔ الحمدُ للہ ! رمضان المبارک کا با بر کت مہینہ سایہ فگن ہو چُکا ہے۔ یہ وہ ماہ ِ مبارک ہے، جسے ’’ماہِ تربیت‘‘ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ لیکن یاد رکھیے!روزہ صرف بھوکے پیاسے رہنے کا نام نہیں ، بلکہ اس کے ذریعے اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیں خود احتسابی کاایک بہترین موقع فراہم کرتا ہے۔ نیز، ہمارے سامنے یہ حقیقت بھی عیاںہوتی ہے کہ عام دنوں میں جن گناہوں، برائیوںاورغلط کاموں کا ذمّے دار ہم شیطان کو ٹھہراتے ہیں ،در اصل اُن کے اصل ذمّے دار ہم خود ہیں۔ روزہ تو ہمیں صبر و برداشت، تحمّل اور در گزر کا درس دیتا ہے۔ لیکن ہم روزے ہی کے نام پربھوک پیاس کا پرچار کرکے یا اُسے بہانہ بنا کر دوسروں پر لعن طعن،ڈانٹ ڈپٹ اور غصّےکاکوئی موقع ہاتھ سے نہیںجانے دیتے۔خلقِ خدا کے لیے آسانیاں، راحتیںفراہم کرنے کے بجائےباعث ِ اذّیت بن جاتے ہیں۔مشاہدے میں ہے کہ کچھ نوجوان لڑکے سحری کرتے ہی ایسا سوتے ہیں کہ پھرعصر ہی میں اُٹھنے کی زحمت کرتے ہیں، وہ بھی والد کے خوف سے، پھر عشاء پڑھ کر نائٹ میچ یا دوستوں کے ساتھ گھومنےپھرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے، جو سحری تک جاری رہتا ہے، جیسے رمضان عبادت کا نہیں، تفریح کا مہینہ ہو۔ دوسری جانب ایسی خواتین اورلڑکیوں کی بھی کمی نہیں ، جو رمضان المبارک کو نیکیاں بڑھانے کا نہیں، وزن گھٹانے کا مہینہ گردانتی ہیں۔ خود تو روزہ رکھ کر اے- سی کمروں سے بارہ بارہ بجے سوکرباہر نکلتی ہیںاور گھر، بچّے کام والیوں کے بھروسے ہوتےہیں، جہاں تک بات ہے افطاری کی، تو میاں جی بازار سے خرید لاتے ہیں۔ چٹورپن اور شاپنگ کی ماری خواتین ،رات گئے تک شوہر اور بچّوں کے ہم راہ شاپنگ سینٹرز میں گھومنے کے بعد سحری بھی باہر ہی سے کرکے لوٹتی ہیں اور بعد ازاں، یہ شکایت بھی کرتی نظر آتی ہیں کہ رمضان میںشوہرکو بد ہضمی ہوگئی، ہماراوزن کم ہونے کے بہ جائے مزید بڑھ گیاوغیرہ وغیرہ… بھلا کوئی ان اللہ کی بندیوں سے پوچھے کہ جب سحر و افطار بازار کے کھانوں سے ہوگی ، تو وزن کیا خاک کم ہوگا، اُلٹا بیماریاں ہی گلے پڑ جائیں گی۔ پھر ہمارے یہاں ایسے لوگوںکی بھی بھرمار ہے، جو روزہ تو رکھ لیتے ہیں، لیکن پھرسارادن چڑ چڑے سے پھرتےہیں، جیسے کسی نےاُن سے ’’گن پوائنٹ‘‘ پرزبر دستی روزہ رکھوایا ہو۔ ہر ذی شعور جانتا ہے کہ روزہ فقط بھوک ،پیاس پر ضبط کا نام نہیں،بلکہ اس کا اطلاق تو زبان، اخلاق اور عمومی رویّوں پر بھی ہوتا ہے، لیکن یہاں تو حال یہ ہے کہ صرف کھانے پینے سے ہاتھ کھینچ کر احسان جتا دیا جاتا ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی خاطر اس قیامت خیز گرمی میں روزہ رکھا ہے۔
روزے کی حالت میں بگڑےرویّے، چڑچڑاہٹ، غصّے اور بد کلامی کے حوالے سے قرآن و سنّت کیا کہتے ہیں،یہ جاننے کے لیے ہم نے ناظم ِ اعلیٰ، وفاق المدارس العربیہ، پاکستان ، مولانا محمّد حنیف جالندھری سے بات چیت کی توانہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کچھ ان الفاظ میں کیا’’نبی کریم ﷺ کی تعلیمات سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ روزے دار کو اپنے اعمال، قول و فعل کی عام دنوں سے زیادہ احتیاط کرنی چاہیے۔ جیسے چغلی، غیبت، جھوٹ ، لڑائی جھگڑے، کسی کو بُرا بھلا کہنےسے اجتناب برتنا چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر کوئی روزے کی حالت میں تم سے لڑائی کرے، تو بس اتنا کہہ دو کہ ’’مَیں روزے سے ہوں۔‘‘ ایک اور جگہ فرمایا کہ ’’اللہ کو تمہارے بھوکا پیاسا رہنے کی ضرورت نہیں۔‘‘ احادیث کی رُوسے پتا چلتا ہے کہ چاہے کوئی کتنا ہی بُرا برتاؤکیوں نہ کرے، مگر روزے دار کو اپنے غصّے پر ضبط رکھنا چاہیے ۔ در حقیقت روزہ تو باطنی بیماریوں جیسے غیبت، بد اخلاقی، بد کلامی وغیرہ کا خاتمہ کرتا اور نفس کو پاک کرتاہے۔ نبی محترم ﷺ کی ایک حدیث ہے کہ ’’بہت سے لوگ ہیں، جن کو روزے سے محض بھوک و پیاس ملتی ہے۔‘‘یعنی انہیںروزے کی اصل روح، صبر و برداشت، تحمّل، سکون اور اللہ کا قرب حاصل نہیں ہوتا۔ ‘‘رمضان المبارک میں کچھ افراد بالخصوص خواتین روزوں کو بہ طور ڈائیٹنگ لیتی ہیں، کیا واقعی روزے وزن گھٹانے میں کا رآمد ثابت ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ماہرِ غذائیت، نائب صدر، پاکستان نیوٹریشن اینڈ ڈائیٹیٹکس سوسائٹی، ڈاکٹر صائمہ رشید کا کہناہے کہ ’’ماہِ رمضان ایک تحفہ ، ایک انعام ہےاور بہ طور مسلمان ہماری نیّت نیکیاں کمانا اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہونی چاہیے۔ جہاں تک بات ہے وزن کم کرنے کی ، تو مَیں وضاحت کردوں کہ روزے رکھنے سےوزن پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اگر آپ یہ سوچ رہے ہیں کہ کچھ گھنٹے بھوکا پیاسا رہنے سے دُبلے ہوجائیں گے، تو یہ سوچ دُرست نہیں، روزہ تو جسم کی زکوٰۃ ہے، اس کے لیے نیّت کا صاف ہونا ضروری ہے۔ ویسے بھی وزن کم کرنے کے لیے ڈائیٹنگ کے ساتھ ورزش انتہائی ضروری ہے، لیکن روزے میں ورزش نہیں کرنی چاہیے،سوجب تک آپ ورک آؤٹ نہیں کریں گے، وزن پہ اثر نہیں پڑے گا۔ دوسری اہم بات یہ کہ ہمارےیہاں پورا دن بھوکا پیاسا رہنے کے بعد افطار میں شربت اور دوسری میٹھی اورتلی ہوئی اشیاء زیادہ کھائی جاتی ہیں ، جنہیں کھانے کے بعد وزن کم ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لہٰذاماہِ صیام کو عبادات، برکات اور گناہوں کی بخشش کے طور پر ہی لینا چاہیے، تاکہ دنیا و آخرت سنور جائے۔ ‘‘روزے کی حالت میں سب سے زیادہ غصّے اور عدم برداشت کا مظاہرہ عموماً سڑکوں پرٹریفک جام کی صُورت دیکھنے میں آتا ہے ۔ لوگوں کے رویّوں میں کیا تبدیلی رونما ہوتی ہے اور کس عُمر کے افراد زیادہ چڑچڑے دکھائی دیتے ہیں،ہم نے یہ سوال موسموں کی سختی کے باوجود جاں فشانی سے ڈیوٹی سرانجام دینے والے پولیس کانسٹیبل، نثار احمد سے کیا، اُن کا کہنا تھا ’’گرمی اور روزے کی وجہ سےلوگوں کا مزاج تھوڑا گرم ہوجاتا ہے۔ اگر سب لوگ تھوڑے صبر کا مظاہرہ کریں، تو ٹریفک جام ہو اور نہ ہی تُو تُو، مَیں مَیںہو۔ میرا مشاہدہ ہے کہ بڑی عُمر کے افراد اور موٹر سائیکل سوارزیادہ جلدی غصّے میں آجاتے ہیں۔ ایک توموٹر سائیکل چلانے والے ٹریفک قوانین پر عمل درآمد بھی بہ مشکل ہی کرتے ہیں اور جب کسی گاڑی سے ٹکّر ہوجائے، تو لڑائی جھگڑابھی فوری شروع کردیتے ہیں،جس کا نتیجہ ٹریفک جام کی صُورت نکلتا ہے۔‘‘

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں