30

احتجاج کرنے والی نرسوں کا پولیس کے ذریعے لاٹھیوں سے علاج

کراچی میں سندھ بھرکی نرسز کا احتجاج چوتھے روز بھی جاری رہا۔ ریڈ زون میں داخلے کی کوشش پر پولیس نے متعدد مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔

کراچی میں سندھ بھر سے جمع ہونے والی نرسز نے اپنے مطالبات کے حق میں آج چوتھے روز بھی احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران نرسز نے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے کی کوشش کی تو پولیس نے لاٹھی چارج کیا اور نرسوں کے رہنما اعجاز کلیری سمیت متعدد مظاہرین کو حراست میں لے کر تھانے منتقل کر دیا۔ لاٹھی چارج سے متعدد نرسز زخمی بھی ہوئیں۔
پولیس کی جانب سے روکنے اور لاٹھی چارج کے باوجود نرسز پی آئی ڈی سی چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئیں جبکہ انتظامیہ کی جانب سے وزیر اعلیٰ ہاؤس جانے والے راستوں کو رکاوٹیں کھڑی کر کے بند کر دیا گیا۔

شدید گرمی کے باوجود نرسوں نے اپنا احتجاج جاری رکھا اور پی آئی ڈی سی چوک پر ہی دھرنا دے کر بیٹھ گئیں جبکہ پولیس کی جانب سے نرسوں کی مزید پیشقدمی روکنے کے لیے خواتین اہلکار اور واٹر کینن بھی طلب کر لی گئیں۔

جناح اسپتال کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی نے کہا کہ صبح کی شفٹ میں ویسے بھی صرف 10 نرسیں ڈیوٹی پر ہوتی ہیں اور ان کے بھی کام نہ کرنے سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ زیر تربیت نرسنگ اسٹاف کو اہم شعبہ جات کی ذمہ داریاں نہیں سونپی جا سکتیں کیونکہ ان سے غلطی کا اندیشہ موجود ہوتا ہے اور ہم کسی بھی قسم کا رسک نہیں لے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ نرسوں کی جانب سے سروس اسٹرکچر پر عملدرآمد، ہیلتھ پروفیشنل الاؤنس کی فراہمی، طلبا کی تنخواہوں میں اضافہ اور دیگر مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاج کیا جا رہا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں