47

سعودی عرب نے پہلی پاکستانی خاتون کو سزائے موت دیدی

سعودی عرب نے پانچ سال بعد پہلی پاکستانی خاتون کو سزائے موت دیدی ۔جسٹس پراجیکٹ پاکستان کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق 2014کے بعد پہلی مرتبہ سعودی عرب نے پاکستانی خاتون فاطمہ اعجاز کو منشیات سے متعلق کیس میں سزائے موت دیدی ۔

سعودی حکام کی جانب سے فاطمہ اعجاز کے شوہر محمد مصطفی اور عبد المالک کو بھی سزائے موت دی گئی ۔پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قیدیوں کے معاملے پر حال ہی میں ایک معاہدہ ہوا ،رواں سال فروری میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے 2ہزار 1سو 7پاکستانی قیدیوں کو رہا کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن پھر بھی یہ سزا پریشان کن ہے۔
پاکستانیوں کو رہا کرنے کا وعدہ ابھی پورا ہونا باقی ہے ،ابھی تک صرف 250پاکستانی قیدی واپس آئے ہیں ۔دوسری جانب محمد بن سلمان کی جانب سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے اعلان کے بعد قیدیوں کو سزائے موت دینے میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔

پاکستانی حکومت بیرون ملک قید اپنے بد حال پاکستانیوں کی زندگیاں بچانے میں مکمل طور پر ناکام ہے ۔کم پیسے کمانے والا مزدور طبقہ اوور سیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز کے دباﺅ میں آکر منشیات کی سمنگلگ میں پھنس جاتے ہیں ۔
سعودی عرب گزشتہ پانچ سالوں میں 100سے زائد پاکستانیوں کو سزائے موت دے چکا ہے ۔پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات ہونے کے باوجود سعودی عرب نے دیگر ممالک کے باشندوں کے مقابلے میں پاکستانیوں کو زیادہ سزائے موت دی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں