secret news 42

کھیل کے قواعد فوج سے سیکھیں-اسد اللہ غالب

یہ ایک غلط العام خیال ہے کہ کھیل کا کپتان اپنی مرضی، سوجھ بوجھ اور صوابدید کے مطابق بیٹنگ آرڈر تبدیل کر سکتا ہے یا کسی کھلاڑی کو ٹیم سے باہر کر سکتا ہے اور نیاکھلاڑی میدان میں اتار سکتا ہے۔ یہ کپتانی نہ ہوئی من مرضی ہو گئی۔ عوام ملک میں جمہوریت مانگتے ہیں ۔ مشاورت سے فیصلے مانگتے ہیں۔ عوام فرد واحد کے کنٹرول کو جمہوریت کی روح کے منافی سمجھتے ہیں ۔مگر میں کہتا ہوں کہ کھیل کے قواعد سیکھنے کے لئے ہمیں اپنی مسلح افواج کی طرف دیکھنا چاہئے ۔ ایک تو اس ملک میں دفاع کے تین ادارے ہیں، آج تک کسی ایک ا دارے نے من مانی نہیں کی، ایسانہیں ہوا کہ بری فوج نے جنگ چھیڑ دی ہو اور فضائیہ نے اس کے ساتھ تعاون سے گریز کیا ہو یا بحریہ ا س جنگ سے لاتعلق رہی ہو۔ فوج کا کپتان ہر تین سال بعد بدلتا ہے۔ یہ ایک روٹین کی بات ہر نیا فوجی سربراہ اپنی ٹیم میںپہلے ہی دن ردو بدل کر لیتا ہے۔ اگر کہیں درمیان میں کوئی لیفٹننٹ جرنیل ریٹائر ہو جائے یا نئے لیفٹیننٹ جرنیل ترقی پا جائیں تو پھر ہی کور کمانڈرز کی ہلکی پھلکی تبدیلی عمل میں آتی ہے۔ مگر ایک بار کھیل شروع ہو جائے تو پھر کمان کی تبدیلی نہیں کی جاتی۔ پینسٹھ کی جنگ سے پہلے جب آپریشن جبرالٹر چل رہا تھا تو جنرل اختر شہید ہو گئے اور ان کی جگہ جنرل یحییٰ خان کو لگا دیا گیا۔ یہ تبدیلی ملک کو راس نہ آئی۔ اسی طرح اکہتر میں یحییٰ خان نے مشرقی پاکستان میں آپریشن کا حکم دیا مگر لیفٹیننٹ جنرل صاحب زادہ یعقوب خاں نے اس کام سے معذرت کر لی۔ شاید فوج میں ایسی معذرت کی گنجائش ہوتی ہو۔ میں ا س بارے کچھ نہیں جانتا مگر ہم نے ان کی جگہ جنرل نیازی کوبھیج دیا جن کی وجہ سے ایسا آپریشن ہوا کہ پاکستان ہی ٹوٹ گیا۔ کیا جنگ عظیم اول اور دوم میں کمانڈروں کو تبدیل کیا گیا۔ کسی جنرل منٹگمری یا جنرل رومیل کو بدلا گیا۔ بالکل نہیں۔ا س پر جنگی تاریخ کے ماہرین تفصیلی رائے دیں ۔ میں نظر کی کمزوری کی وجہ سے یہ ریسرچ کرنے سے قاصر ہوں۔ مگر اسلامی تاریخ میں جرنیل کی تبدیلی کی ایک مثال ملتی ہے جب خلیفہ ثانی حضرت عمر ؓ نے پبلک پرسیپشن کی وجہ سے حضرت خالدبن ولید ؓ سے کمان واپس لی۔ یہ کوئی سزا نہیں تھی۔نہ حضرت عمرؓ نے اس سے پہلے کوئی اعلان کیا تھا کہ جو کھلاڑی کارکردگی نہیں دکھائے گا ، اسے تبدیل کر دوں گا بلکہ یہاں معاملہ الٹ تھا۔ عام تصور یہ تھا کہ مسلمانوں کو ساری فتوحات خالد بن ولید ؓ کی وجہ سے ہو رہی ہیں۔ یعنی ایک شخص کارکردگی پہ کارکردگی دکھا رہا تھا مگر لوگوں کے ذہن سے یہ تصور دور کرنے کے لئے کہ ساری فتوحات ایک فرد کے ساتھ مشروط ہیں۔ یہ تبدیلی عمل میں لائی گئی۔ حضرت عمر ؓ نے ایک آدھ گورنر کو بھی تبدیل کیا یا انہیں سرزنش کی کہ وہ سادہ زندگی بسر نہیں کرر ہے ۔ مگر یہاں بھی کرپشن کا سوال نہ تھا بلکہ پتہ چلا کہ ا س علاقے کے شرفا اسی قسم کا لباس زیب تن کرتے تھے، سو گورنر نے مناسب سمجھا کہ وہ بھی ویسا ہی لباس پہن لے۔
یہ تو ہے فوج کے اداروں کا معاملہ اگرسول حکومت کی طرف دیکھا جائے تو عام طور پر طوائف الملوکی نظر آتی ہے۔ بھٹو جیسے جمہوریت پسند نے کئی گورنر بدلے ا ور کئی وزرائے ا علیٰ بدلے۔ امریکہ اور دیگر ممالک میں سول حکومت میں ہر نئے سوج کے ساتھ تبدیلی نہیں آتی۔ سنگا پور کے لی کوان یو، ملائیشیا کے مہاتیر محمد برسہا برس تک وزیر اعظم رہے۔ ملائیشیا کو آج پھر مہاتر کی ضرورت پڑ گئی ہے جبکہ ان کی عمر بانوے برس کی ہے ، ہمارے ہاں ایسے شخص کو پیر فرتوت تصور کہا جاتا ہے۔ ہمارے ایک فوجی حکمران ایوب خاں نے گیارہ برس تک حکومت کی اور ان کی معاشی منصوبہ بندی کی نقل سنگا پورا ور جنوبی کوریا نے کی۔ ایوب خان کو اس وقت ہٹایا گیا جب انہوں نے ایک کتاب لکھ ماری۔۔جس رزق سے ا ٓتی ہو پرواز میں کوتاہی۔اس پر اسے بیرونی طاقت نے ہٹانے کا بند و بست کیا جس کے رویئے کے خلا ف انہوں نے کتاب لکھی تھی۔ جنرل ضیا بھی گیارہ برس تک ٹک کر حکومت کرتے رہے۔ انہیں تب ہٹایا گیا جب امریکہ نے محسوس کیا کہ افغان جنگ کی آڑ میں پاکستان نے ایٹمی پروگرام کو اس قدر پروان چڑھا لیا ہے کہ ا سکا کامیاب کولڈ ٹیسٹ بھی کیا جاچکا۔ اس پر جنرل ضیا کو سزا دی گئی اور نہیں ایک ہوائی حادثے میں شہید کیا گیا۔ جنرل مشرف ایک ا ور فوجی حکمران ہیں جنہوں نے ایک عشرے تک حکومت کی ، انکے دور میں جمہوریت تو نہیں تھی نہ ہوسکتی تھی مگر عوام کو مہنگائی کے جن سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔ اور وہ فاقوں سے خود کشیاں نہیں کر رہے تھے۔ ان کے خلاف عدلیہ کی تحریک کو آزمایا گیا جس کی و جہ سے مشرف تو چلا گیا مگر عوام آج بھی عدل کو ترس رہے ہیں۔ زرداری جیسے شخص نے جنہیں گورننس کا پہلے سے کوئی تجربہ نہ تھا۔ اپنی پارٹی حیثیت کا جائز یا نا جائز فائدہ نہیں اٹھایا اور حکومت میں کوئی تبدیلی نہ کی۔ وزیراعظم گیلانی گھر گئے تو عدلیہ کے ہاتھوں۔ میں گیلانی کو آئین کا پاسدار وزیراعظم کہتا ہوں کہ انہوںنے عدالت کے حکم کی سرتابی ضرور کی اورا سکی سزا بھگتی مگر آئین کے خلاف صدر پاکستان کے آئینی استثنیٰ کو مقدم جانا۔

میں کھلاڑی نہیں ، کھیل کے کسی قاعدے قانون کو نہ سمجھتا ہوں ، نہ جانتا ہوں ۔ ہو سکتا ہے کرکٹ میں وہی ہوتا ہو جو عمران خاں کہتے ہیں مگر دنیائے کر کٹ میں کبھی ٹیم میں اس قدر اتھل پتھل نہیں ہوا جتنا عمران خاں نے ایک اسٹروک سے کر دیا اور ابھی ان کا کہنا ہے کہ جو وزیر کارکردگی نہیں دکھائے گا، وہ گھر جائے گا یا اس کا بیٹنگ آرڈر تبدیل کر دیا جائے گا، ممکن ہے وزیر اعظم درست ہوں مگر میرے جیسا عامی شخص ایسی حکومتی اکھاڑ پچھاڑ کو طوائف الملوکی ہی تصور کرے گا۔ الا یہ کہ وزیر اعظم نے جو تبدیلیاں کی ہیں، ان کے مثبت اور خوش کن نتائج برا ٓمد ہوں اور عوام کو آج سب سے سنگین مسئلہ مہنگائی سے نجات ملے ہے۔ وزیربدل دیئے گئے مگر ادویات کی قیمتوںمیں کیا کمی آئی، وزیر تو بدل دیئے گئے مگر گیس اور پٹرول کے نرخوں میں کیا تبدیلی آئی، وزیر تو بدل دئے گئے مگر کیا ہزارہ جات کی جانیں محفوظ ہو گئیں ، نئے وزیر تو ان مسکینوں کے گھروں میں دلاسا دینے تک نہیں پہنچے، آج دنیا سکڑ چکی ہے۔ انہیں پتہ ہے کہ نیوزی لینڈ کی خاتون وزیراعظم نے یہ کہہ کر جان نہیں چھرائی کہ ان کی ایک مسجد میںمسلمان مارے گئے بلکہ انہوںنے کہا کہ یہ حملہ ہم پر ہوا ہے۔اس خاتون وزیراعظم کا مثالی کردار پوری تاریخ عالم کے لئے مثالی رہے گا۔ کیا ہم اس کردار کو اپنے لئے مثال بنا سکتے ہیں۔

میں دیانت داری سے سمجھتا ہوں کہ وزیر اعظم بے انتہا اختیارات کے مالک ہیں ۔ آئین پاکستان ان کو یہ اختیار دیتا ہیں وہ کابینہ تحلیل کر سکتے ہیں، وہ صوبوں کی حکومتیں تحلیل کر سکتے ہیں۔ صوبوں میں گورنر راج نافذ کر سکتے ہیں، وہ سروسز چیفس تبدیل کر سکتے ہیں ،یہ کام بھٹو نے کامیابی سے کیا ، نواز شریف نے دو بار کیا۔ وزیر اعظم فوج کو کہیں بھی مارشل لا لگانے کا حکم دے سکتے ہیں اور یہ بھی جان لیجئے کہ وزیر اعظم کے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی ڈبیا بھی ہے جس میں وہ ایٹمی بٹن دبا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم کے اختیارات کو چیلنج کرنے والے آئین پڑھ لیں۔یہ الگ بات ہے کہ ان کے فیصلوں کے نتائج کیا ہوں گے۔ یہ فیصلہ تو تاریخ نے کرنا ہے۔۔ ہم تو صرف ٹیوے لگا سکتے ہیں۔

ایک فرق جو سول سیٹ اپ کو فوج کے سیٹ اپ سے سمجھنا چاہئے کہ فوج میں کوئی نیب جیسا بھونپو نہیں ہے۔ وہاں بھی کورٹ مارشل ہوتے ہیں ، مگر انہیں اچھالا نہیں جاتا کسی کو ذلیل اوررسوا نہیں کیا جاتا۔ وہاں میرا ماہی کرنیل نی جرنیل نی کی لاج رکھی جاتی ہے۔ سول حکومت کو بھی اشرف المخلوقات کے شرف انسانیت کی توہین سے گریز کرنا چاہئے۔فوج کو جب ضرورت پڑی تو بلوچستان جیسے مشکل صوبے کو کنٹرول کرنے کے لئے ایک ایسے کمانڈر کو کھڈے لائن سے نکال کر وہاں متعین کیا گیا جس نے جنوبی وزیرستان میں امن قائم کر کے دکھا دیا تھا۔ سول حکومت بھی ایسے ہیروں کو تلاش کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کرے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں