13

جعلی اکاؤنٹس کیس: 2 خواتین وعدہ معاف گواہ بننے کو تیار

احتساب عدالت میں آصف زرداری کےخلاف جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں پہلی پیشی پر ہی اہم پیش رفت ہوئی ہے جب 2 خواتین ملزمان نے احتساب عدالت میں وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست دائر کر دی۔
کرن اور نورین نامی 2 خواتین ملزمان نے عدالت میں وعدہ معاف گواہ بننے کی درخواست کردی۔
احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے دونوں ملزم خواتین سے سوال کیا کہ کیا آپ وعدہ معاف گواہ بنیں گی؟
کرن اور نورین نے اپنی درخواست میں استدعا کی ہے کہ ہمارانام ملزمان میں ہے لیکن ہم گواہی دینے کو تیار ہیں، ہم نے چیئرمین نیب کو بھی درخواست لکھی ہے۔
عدالت نے خواتین کو الگ الگ تحریری درخواستیں جمع کرانے کی ہدایت کی۔
اس موقع پر دیگر ملزمان کے وکلاء نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوئی وعدہ معاف گواہ بننے کااسٹیج نہیں ہے۔
جج نے نیب پراسیکیوٹر سردار مظفرسے سوال کیا کہ خواتین کی درخواست پر آپ کیا کہتے ہیں؟
نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ ہمیں چیک کرنا ہوگا کہ کوئی درخواست نیب میں ہے یا نہیں۔
اس سے قبل آصف زرداری اور فریال تالپور کی جانب سے فاروق ایچ نائیک اورلطیف کھوسہ ایڈووکیٹ بطور وکیل پیش ہوئے۔فاروق ایچ نائیک نے عدالت میں آصف زرداری اور فریال تالپور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی۔
آصف زرداری کے وکیل لطیف کھوسہ نے عدالت میں کہا کہ وکلاء کو عدالت آنے سے روکا گیا، وکلاءکو عدالت میں پیش ہونے کے لیے اس قسم کی ہراسگی کاسامنا نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عدالت کی تعظیم کو مدنظر رکھنا چاہیے، اگر وکلاء کے ساتھ یہی حال ہوگا تو ہم عدالت کی کیا معاونت کریں گے؟احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ کمرۂ عدالت چھوٹا ہے، اس سے متعلق کوئی میکنزم بنا لیتے ہیں۔ملزم کے وکیل نے کہا کہ اس کیس میں 24سے زائد ملزمان ہیں، ان کے وکلاء اور اسسٹنٹس کو ملا کر تعداد بڑھ جاتی ہے۔راجہ رضوان عباسی ایڈووکیٹ نے کہا کہ پہلےبھی ہائی پروفائل کیس یہاں چلا، ایسی صورت حال توکبھی نہیں ہوئی۔لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایسالگتا ہے کہ عدالت کسی محاصرے میں ہے۔
آصف زرداری اور فریال تالپور کے وکلاء نے عدالتی حاضری سے استثنیٰ مانگ لیا۔
عدالت نے سماعت 16 اپریل تک ملتوی کر دی۔
اس سے پہلے آصف زرداری نے میڈیا سے غیر رسمی گفتگو بھی کی، کمرہ عدالت میں عدالتی کارروائی سے قبل ایک صحافی نے آصف زرداری سےسوال کیا کہ آپ آج اس کرسی پر بیٹھے ہیں جہاں نوازشریف بیٹھتے تھے؟
آصف زرداری نے جواب دیا کہ میاں صاحب تو بڑے لوگ ہیں، ہم چھوٹے لوگ ہیں۔
ایک اور صحافی نے کہا کہ فریال تالپور جس طرح یہاں بیٹھی ہیں، مریم نواز بھی یہیں بیٹھا کرتی تھیں۔
آصف زرداری نے جواب میں صحافی سے دریافت کیا کہ آپ تو خوش ہیں نا؟
علاوہ ازیں آصف زرداری اور فریال تالپور کی احتساب عدالت میں پیشی کے موقع پر نیب کورٹ کے قریب سے پولیس نے پیپلز پارٹی کی 2 خواتین کارکنان کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق خواتین کارکنان جی 11سگنل کے پاس موجود تھیں، جنہیں ویمن تھانے منتقل کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں