38

کرائسٹ چرچ حملہ: نعیم رشید نے اپنی جان دے کر کئی جانیں بچائیں

ایبٹ آباد سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شخص نعیم رشید کو کرائسٹ چرچ کی مسجد میں حملہ آور کو روکنے کی کوشش کرنے پر ان کی بہادری دنیا بھر میں سراہا جا رہا ہے۔

سنیچر کو پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل نےچھ پاکستانی شہریوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی گئی ہے جس میں نعیم رشید اور ان کے بیٹے طلحہ نعیم بھی شامل ہیں۔

ایبٹ آباد میں نعیم رشید کے گھر صف ماتم بچھ گئی ہے اور وہاں بڑی تعداد میں لوگ تعزیت کے لیے جمع ہو رہے ہیں۔

ایبٹ آباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے ان کی والدہ کا کہنا تھا کہ وہ حکومت سے گذارش کرتی ہیں کہ انھیں ویزا کے حصول میں سہولت دی جائے تاکہ وہ اپنے بیٹے اور پوتے کے آخری دیدار کے لیے جا سکیں۔

لاہور میں مقیم معالج اور نعیم رشید کے بھائی ڈاکٹر خورشید عالم نے بھی ساتھ میں کہا کہ اب تک حکومت کی جانب سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں کیا گیا ہے۔

ڈاکٹر خورشید عالم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مزید بتایا کہ ‘چند دن پہلے ہماری ان سے فون پر بات ہوئی تو نعیم پاکستان آنے اور طلحہ کی شادی کے منصوبے بنا رہے تھے مگر اب ہم دونوں باپ بیٹے کی میتیں لانے کے بارے میں انتظامات کا سوچ رہے ہیں۔’

نیوزی لینڈ میں ہی مقیم نعیم رشید کے ایک اور رشتے دار ندیم خان نے بی بی سی کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ کئی لوگوں نے ان کو بتایا کہ حملے کے وقت نعیم رشید اپنے بیٹے کو چھوڑ کر حملہ آور کی طرف لپکے تھے۔

‘وہاں موجود ایک شخص نے بتایا کہ اگر نعیم رشید اس حملہ آور کو نہ روکتے تو جانی نقصان اس سے زیادہ ہوسکتا تھا کیونکہ وہ بالکل مسجد کے درمیان میں پہچنے کی کوشش کر رہا تھا۔’

ڈاکٹر خورشید عالم نے بھی اسی حوالے سے اپنے بھائی کے بارے میں بتایا کہ ‘وہ بچپن ہی میں کہا کرتا تھا کہ زندگی دوسروں کی مدد کرتے ہوئے گزارو اور جب مرو تو اس طر ح مرو کے دنیا رشک کرے۔ ‘

نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں گذشتہ روز جمعے کی نماز کے موقع پر النور مسجد میں ہونے والے دہشت گرد حملے کی ایک وائرل وڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک شخص حملہ آور کو روکتا ہے اور اس کوشش میں شدید زخمی ہونے کے باوجود وہ حملہ آور کو روکنے کی کوشش کو ترک نہیں کرتا۔

ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پاکستان میں موجود کچھ لوگوں نے اس شخص کی شناخت نعیم رشید کے طورپر بھی کی۔
صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر ایبٹ آباد میں موجود پاکستان مسلم لیگ نون کی سابق رکن صوبائی اسمبلی آمنہ سردار نے بی بی سی کو بتایا کہ وائرل ہونے والی ویڈیو انھوں نے اور ان کے خاندان والوں نے دیکھی۔

‘اس ویڈیو میں انتہائی زخمی ہونے والے شخص نعیم رشید ہیں جو کہ میرے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ نعیم رشید کے تین بھائی تھے اور ان کی کوئی بہن نہیں تھی جس وجہ سے نعیم رشید نے مجھے اپنی بہن بنایا ہوا تھا اور وہ سگے بھائیوں سے بھی بڑھ کر میرا خیال رکھتے تھے۔’

‘ہر مرتبہ ویڈیو اور تصاویر دیکھنے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ لوگوں کی جانوں کو بچانے کے لیے اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے والا کوئی اور نہیں نعیم رشید ہی تھے۔’

نعیم رشید کون تھے
آمنہ سردار کے مطابق نعیم رشید کے والد عبدالرشید لاہور کے رہائشی تھے جبکہ پیشے کے لحاظ سے وہ انجینیئر تھے اور کئی سال پہلے وفات پا گے تھے۔

نعیم رشید کی والدہ بدر رشید ہیں جن کا تعلق ہزارہ کے علاقے ہری پور سے ہے اور وہ سماجی کارکن ہیں اور صوبہ خیبر پختون خوا کے سابق ڈی آئی جی ڈاکٹر وسیم فضل کی بہن ہیں۔

آمنہ سردار کا کہنا تھا کہ نعیم رشید ماضی میں آزاد خیال تھے مگر چند سال قبل وہ دین کی طرف راغب ہوگے تھے اور انھوں نے اسلامی تعلیمات پر عمل کرنا شروع کردیا تھا۔ طلحہ سمیت ان کے تینوں بیٹے مذہبی رجحان رکھتے تھے۔

نعیم رشید کا بچپن زیادہ تر اپنے والد کے ہمراہ قطر میں گزرا تھا جہاں پر ان کے والد ایک انجینیئر کی حیثیت سے کام کرتے تھے بعد ازاں نعیم رشید کے والد نے ایبٹ آباد میں رہائش اختیار کی اور نعیم رشید نے 1985 میں سکول کی تعلیم مکمل کی۔

بعد میں وہ فنانس کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے فلپائن چلے گے تھےاور ماسٹر کرنے کے بعد وہ پاکستان میں مختلف بینکوں میں خدمات انجام دیتے رہے تھے۔

نو سال قبل نعیم رشید اپنے تینوں بچوں اور اہلیہ کے ہمراہ پی ایچ ڈی کے لیے نیوزی لینڈ چلے گے تھے جہاں پر وہ استاد کی خدمات بھی انجام دے رہے تھے۔

طلحہ نعیم کون
آمنہ سردار کے مطابق طلحہ گیارہ سال کا تھا جب اپنے والد نعیم رشید کے ہمراہ نیوزی لینڈ چلا گیا تھا۔ نعیم رشید کی کوئی بیٹی نہیں تھی۔ تینوں بیٹے ہی تھے جبکہ طلحہ سب سے بڑا بیٹا تھا۔

‘کچھ ہفتے قبل اس کی ملازمت ہوئی تھی اور اس خاندان نے مئی میں پاکستان آنا تھا۔ ہم لوگ طلحہ کے لیے رشتہ تلاش کررہے تھے اور سب کی خواہش تھی کہ طلحہ کی شادی مئی میں کردی جائے۔’

انھوں نے بتایا کہ اس حوالے سے اکثر ان نعیم رشید اور ان کی اہلیہ سے بات چیت ہوا کرتی تھی۔

‘ وہ دونوں بڑے بیٹے کی شادی کے حوالے سے بہت پرجوش تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ ہم لوگ کچھ رشتے دیکھ کر رکھیں گے اور جب یہ لوگ پاکستان آئیں گے تو چٹ منگنی اور چٹ بیاہ کردیا جائے گا۔’

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں