27

پی ٹی وی معاملے پرفوادچودھری، نعیم الحق آمنے سامنے

پاکستان ٹیلی وژن میں اختیارات کے معاملے پر وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری اور وزیراعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق آمنے سامنے آ گئے۔

سب سے پہلے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا بیان سامنے آیا جنھوں نے پی ٹی وی کے ملازمین سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عوام کے ووٹوں سے آئی حکومت یونین پر پابندیاں نہیں لگاتی۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس میں کچھ غیر منتخب لوگ بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان غیر منتخب لوگوں کو سیاست کی کچھ سمجھ نہیں ہے۔

انہوں نے ایم ڈی پی ٹی وی کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان غیر منتخب لوگوں میں سے ایک صاحب ایم ڈی پی ٹی وی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایم ڈی پی ٹی وی کو ان کی پرفارمنس پر ایک خط لکھا۔ سمجھ نہیں آتا کہ ایم ڈی پی ٹی وی کو اتنا غصہ کیوں ہے؟

تاہم ذرائع نے بتایا ہے کہ پی ٹی وی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی طرف سے فواد چودھری کو ایک جوابی خط لکھا گیا جس میں فواد چودھری کے الزامات کی تردید کی گئی مگر بورڈ کے اکثر ارکان کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ بورڈ کا وہ اجلاس کب ہوا جس میں خط کا جواب دینے کا فیصلہ ہوا۔ ان کا خیال ہے کہ یہ خط ارشد خان نے خود ہی لکھوا کر بھجوا دیا ہے۔

فواد چودھری کے اس بیان کے بعد وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی امور نعیم الحق کا ٹوئٹر پر بیان سامنے آیا، جس میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو پی ٹی وی کے بورڈ اور اس کی انتظامیہ پر مکمل بھروسہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یہ سمجھتے ہیں کہ پی ٹی وی کو بی بی سی کی طرح ایک آزاد ادارہ ہونا چاہیے اور حکومت اس مقصد کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گی۔

نعیم الحق کے اس بیان پر فواد چودھری ناراض دکھائی دیے اور انہوں نے نعیم الحق کا ٹویٹ شیئر کرنے کے بعد انہیں شہ کا مصاحب قرار دے دیا۔ انہوں نے نعیم الحق کے ٹویٹ پر غالب کے الفاظ میں تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ

ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا

وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں