Ghamdi Qadyani Nikla 152

جہاد کشمیر نا جائز ھے ‘ جاوید احمد غامدی – محمود عالی

جاوید احمد غامدی آجکل دنیا نیوز پر علم و حکمت کے نام سے ایک شو کررہے ہیں،جس میں وہ جہاد کیخلاف لیکچر دیتے نظر آرہے ہیں، مرزا غلام احمد قادیانی کا سب سے بڑا وار یہی تھا کہ وہ قوم کے دل سے جہاد کے احکامات نکالنا چاہتا تھا، اس مقصد کیلئے اس نے قرآن پاک کی نقل تیار کی اور اس میں سے جہاد کی تمام آیات حذف کر دی گئیں لیکن چونکہ اللہ تبارک تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ وہ قرآن کو  نازل کرنے والا ہے اور وہی اس کی حفاظت کرنے والا ہے لہٰذا علماء کرام اس فتنے کا سد باب کرنے کیلئے کمر بستہ ہوگئے اور باالآخر ان کی کاوشیں قادیانیت کو غیر مسلم قرار دیے جانے پر منتج ہوئی۔
ان صاحب کا میڈیا پر آ کررائے عامہ انڈیا کے حق میں ہموار کرنے سعی لا حاصل کسی بڑی سازش کی طرف اشارہ کررہی ہے،2 فروری کو دنیا نیوز کے پروگرام علم و حکمت میں موصوف کی اسلام پاکستان اور قائد اعظم کیخلاف ہرزہ سرائی نے مجھے فوری طور پر یہ کالم تحریر کرنے پر مجبور کیا،
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یوم کشمیر سے صرف 2 روز قبل یہ پروگرام نشر کیا گیا جو کسی بڑی سازش کا شاخسانہ ہو سکتا ہے،ذرائع کیمطابق مشرف کے دور میں کشمیر کا سودا کرلیا گیا تھا لیکن ان کی حکومت جانے کی وجہ سے ایسا ممکن نہ ہو سکا، آج مشرف تو نہیں لیکن انہی کی پوری کابینہ وزارتوں کے مزے لے رہی ہے، پرویز الٰہی، راجہ بشارت اور فواد چوہدری،علیم خان،فروغ نسیم سب وہی ہیں، میرے منہ میں خاک، خدا نخواستہ کہیں پھر کو ایسی منصوبہ بندی تو نہیں کی جارہی، کہیں لاکھوں کشمیریوں کے خون کا سودا تو ہونے نہیں جا رہا، پاکستانیوں کو آنکھیں کھول کر رکھنا ہونگی۔موصوف کی گفتگو نقاط کی صورت پیش کررہا ہوں
1 :نہ صرف یہ کہ کشمیر کا جہاد نا جائز ہے بلکہ عمومی طور پر جہاد جائز نہیں ہے ۔جہاد صرف ریاست کی ذمہ داری ہے، اب چونکہ کشمیر میں مسلمانوں کی کوئی راست نہیں اس لئے کشمیری جہاد نہیں کر سکتے، انہوں نے ہرزہ سرائی کی کہ کشمیریوں کو سیاسی جدو جہد کرنی چاہیے۔اسمبلیوں میں جانا چاہیے اور گولیوں کی بوچھاڑ کے جواب میں انڈین فوجیوں کو پھول پیش کرنے چاہییں۔ پروگرام میں شریک ڈاکٹر محمد زبیر نے کہا کہ ایسے تو یہ ہو گا کہ کشمیری سالہا سال سیاسی جدو جہد کرتے رہیں گے اور انڈیا کشمیریوں کی نسل کشی کرتے ہوئے ایک روز انہیں اقلیت میں بدل دے گا اور پھر استصواب رائے کے ذریعے ہمیشہ کیلئے کشمیریوں پر اپنا تسلط جما لے گا، اس بات کا غامدی تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔
2 : موصوف کی گفتگو سے قائد اعظم سے ان کی نفرت ٹپکتی نظر آتی ہے، قائد اعظم کے حوالے سے ان کی ہرزہ سرائی جہاں میرے لئے نا قابل فہم ہے وہیں دنیا نیوز جیسے بڑے چینل کی انتظامیہ پر حیرت ہوئی کہ کس طرح اسلام ،پاکستان اور قائد اعظم کی شان میں نا زیبا گفتگو کی اجازت دے دی گئی۔قائد اعظم پر غامدی نے الزام عائد کیا کہ کشمیر قائد اعظم اور مسلم لیگ کی وجہ سے ہاتھ سے گیا ،قائد اعظم نے دو قومی نظریے سے انحراف کرتے ہوئے حیدر آبار چونکہ امیرریاست کو حاصل کرنے کیلئے کشمیر گنوایا اور آزاد کشمیر کو بھی پاکستان نے غاصبانہ طریقے سے حاصل کیا۔ غامدی نے کہا کہ تاریخ بتاتی ہے کہ مسلم لیگ اور قائد اعظم غلط تھے جبکہ کانگریس، گاندھی اور جواہر لال ٹھیک تھے۔
غامدی کی اصلیت اور حقیقت سمجھنے کیلئے وکی پیڈیا میں جاوید احمد غامدی کو سرچ کیا جا سکتا ہے۔وکی پیڈیا غامدی کو ترقی پسند مسلمان اور عالم لکھتا ہے.وہ لکھتا ہے کہ غامدی جہاد مخالف نظریات رکھتا ہے۔ وہ باقاعدہ جہاد مخالف تحریک کے بانی تصور کیے جاتے ہیں، غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز کے بعد غامدی کو یقینی طور پر دور حاضر کا بڑا فتنہ بن کر ابھر رہا ہے، نئی نسل کو
اس فتنے سے خبردار رہنا ہوگا۔

غامدی کے تصورات کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کے ان کے نظریات غلام احمد قادیانی سے بہت زیادہ مماثلت رکھتے ہیں، مثال کے طور پر وہ غامدی قرآن کی بعض ہدایات صرف نبی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مخصوص دور کیلئے تھیں اور ان کے بعض مخصوص لوگوں کیلئے مخصوص تھیں. اسی طرح وہ جنگوں اور جہاد کے حوالے سے کہتے ہیں کہ آج کے دور میں جہاد کامیابی کا ضامن نہیں اور نہ ہی مسلمانوں پر اس دور میں جہاد فرض ہے۔وہ ریاست کے بغیر جہاد کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں، غامدی کے نظریات پر بحث کیلئے کئی کالم درکار ہیں جو انشاء اللہ آئندہ قارئین کی نذر کروں گا ،تاہم ریسرچ کے شوقین حضرات اس لنک کو وزٹ کر سکتے ہیں ۔ جاوید احمد غامدی کے نظریات ۔قادیانی فتنے کو سمجھنے کیلئے فلیش بیک میں جانا پڑے گا، جب میا ں نواز شریف کی حکومت کے آخری دنوں میں قادیانیوں کے حوالے سے ترامیم کی جارہی تھی جس میں تحریک انصاف کے شفقت محمود سمیت سبھی پارٹیوں کے سرکردہ لوگ دامے درمے سخنے شامل تھے، گو کہ انتخابات میں ان قوانین کے حوالے سے اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے مداخلت کرکے معاملے کو رفع دفع کر دیا تھا تاہم وہ قوانین و ترامیم آج بھی من و عن موجود ہیں اور ان پر کبھی کسی فورم پر بات بھی نہیں ہوئی، یوں لگتا ہے کہ کچھ غلط ہونے جا رہا ہے اور ڈاکٹر شاہد مسعود اور اوریا مقبول جان جیسے صحافیوں پر ناراضگی بھی ضرور سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ خدا خیر کرے(آمین)

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

جہاد کشمیر نا جائز ھے ‘ جاوید احمد غامدی – محمود عالی” ایک تبصرہ

اپنا تبصرہ بھیجیں