44

اپنی مرضی کی پچز پاکستانی کرکٹرز کے لئے مہنگی بن گئی

پاکستان کرکٹ ٹیم تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز جنوبی افریقا سے ہارچکی ہے۔پاکستان نے ابو ظہبی اور دوبئی میں اپنی مرضی کی پچز بنوائیں ،موسم اور شائقین ان کے لیئے ساز گارتھے اس لئے سہولت کے ساتھ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کو زیر کر لیا۔دورہ جنوبی افریقا کبھی بھی پاکستان کے لئے ساز گار نہیں رہا ۔موسم بدلا، شائقین بدلے اور پھر پاکستان کو ایسی سب اسٹینڈرڈ پچوںپر کھیلنا پڑا جس کا بائونس غیر یقینی ہے اور تیز گیندیں کرنے والے چار بولروں نے شار ٹ پچ گیندیں کر کے پاکستان کے بیٹسمینوں کو دبائو میں لے لیا۔اور یہ مشہور ہوگیا کہ پاکستان کے کھلاڑی شارٹ پچ بالوں کو کھیلنے کی صلاحیت نہیں رکھتے بلکہ دبائو میں آجاتے ہیں۔چڑھ کر کھیلنے کی بجائے ڈر کر کھیلتے ہیں۔یہ بات بالکل سچ ہے کہ ہر میزبان اپنی مرضی کی پچز بنانے کاحق رکھتا ہے ۔وہ ایسی پچز بناسکتا ہے جو اس کے بولرز اور بیٹسمینوں کے لئے ساز گار ہوں۔ اپنے لئے اپنی ضرورت کے حساب سے پچ بنانے کا یہ ہر گز مطلب نہیں ہے کہ آپ غیر معیاری پچز بنائیں جس میں کرکٹ کے مروجہ اصول کے تحت کھیلنا ہی ممکن نہ ہو۔ اس پر آئی سی سی کو غور کرنا چاہیے،شاید باہر کے ملکوں کے مستند کیوریٹر کو پچ بنانے کے لئے مامور کیا جائے ۔یہ بات اب ثابت ہو چکی ہے کہ جنوبی افریقا کے پچ بنانے والے نااہل ہیں۔ جوہانسبرگ میں بھی تادم تحریر پاکستان کی کار کردگی حوصلہ افزاء نہیں تھی ، جنوبی افریقا میںپاکستانی ٹیم کا قیام ایک ماہ کا ہو چکا ہے۔اب تو موسم اور پچز سے بھی آشنا ہوچکے ہوں گے،ٹیسٹ کی کار کردگی کو بھول کر اب ون ڈے معرکہ کے لئے تیار ہونا پڑے گا،کسی ملک کا سربراہ ہو ،کسی ادارے کا مالک ہو وہ جب مطلق العنان ہو جاتا ہے تو وہ ڈکٹیٹر کی طرز اختیار کر لیتا ہے،وہ اچھے اور برے کی تمیز کھو دیتا ہے،وہ آخر کار ایسے فیصلہ کرتا ہے جو اس کی تنزلی کا باعث بنتے ہیں۔پاکستان کرکٹ ٹیم بھی بدقسمتی سے ان کا شکار ہے۔انضمام الحق چیئرمین سلیکشن کمیٹی بنے ان کے تین ممبر بالکل علم نہ رکھنے والے لوگ کسی کو علم ہی نہیں کہ انضمام الحق کے ساتھ تو صیف احمد،وجاہت اللہ،حیدر شامل ہیں۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ پاکستان کرکٹ کی سلیکشن کمیٹی صرف انضمام الحق کی ہے وہ چیئرمین سے شروع اور چیئرمین پر ختم ہوتی ہے۔تینوں ممبران کی نہ کوئی حیثیت ہے نہ مقام ہے اور چیئرمین سے بات کرنے کی بھی ہمت نہیں رکھتے۔ایک کام انہوں نے ضرور کیا کرکٹ کوچ کی حیثیت سے ناکام مکی آرتھر کو ساتھ ملا لیا ہے۔مکی آرتھر خود سر اخلاق سے عاری ہیں،ہر جگہ سے دھتکارا گیا لیکن پاکستان کرکٹ حکام ان کاناز اور نخرا اٹھا رہی ہے۔ملکی آرتھر اور انضمام الحق نے پوری ٹیم کو دبائو میں لے رکھا ہے،ٹیم کی خراب کارکردگی ان کی وجہ سے ہے۔مکی آرتھر میچ کے بعد غیر شائستہ ہو جاتے ہیں۔انضمام الحق جن سے توقع تھی کہ وہ اچھے ذہن کے ساتھ ساتھ سب کے ساتھ انصاف کریں گے انہوں نے ایسا کیا بھی لیکن ایک رکنی سلیکشن کمیٹی کا نشہ ہی کچھ اور ہوتا ہے تھوڑے دنوں کے بعد آخر کار وہ ٹوٹ گئے۔اپنے بھتیجے امام الحق کو وہ جائز موقع دے کر بھول گئے کہ ایک کھلاڑی کے سر پر چوٹ لگنے کے بعد اور ہاتھ بری طرح زخمی کے بعد شاید اسے آرام کی ضرورت ہوتی ہے مگرکھلائے چلے جارہے ہیںلیکن اس سے کچھ حاصل نہیں ہو رہا،ان کے جلد آئوٹ ہو جانے سے ٹیم دبائو میں آجاتی ہے۔ انہوں نے سمیع اسلم کا راستہ روک دیا اور اس کو بے قدر کر کے بالکل فراموش کر دیا۔فواد عالم سے اتنا ناراض ہوئے کہ کسی طرح اس کو ٹیم کا حصہ نہ بننے دیا ۔نئے ابھرتے ہوئے کھلاڑی عابد علی کی کارکردگی کو آج تک نظر میں نہ لائے ۔پاکستان کرکٹ ٹیم کا آگے کا سفر بہت اچھا ہونا چاہیے۔پاکستان ون ڈےکی چیمپئن ہے اس نے جنوبی افریقا کو ہر اکر فائنل کیلئے کوالی فائی کیا اور بھارت کو بڑی شکست دی آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سے حا ل ہی میں سیریز جیتی ہے۔ٹی 20کی نمبر1ٹیم ہے اب اس اعزاز کا دفاع کرنا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں